Thursday, November 23, 2017

برکت والا کھانا


 ایک مرتبہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہ رسالت کے تین مہمانوں کو اپنے گھر 
لائے اورخودحضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوگئے اورگفتگو میں مصروف رہے یہاں تک کہ رات کا کھاناآپ نے دسترخوان نبوت پر کھالیا اور بہت زیادہ رات گزر جانے کے بعد مکان پر واپس تشریف لائے ۔

 ان کی بیوی نے عرض کیا کہ آپ اپنے گھر پر مہمانوں کو بلا کر کہاں غائب رہے ؟حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کیا اب تک تم نے مہمانوں کو کھانا نہیں کھلایا؟بیوی صا حبہ نے کہا کہ میں نے کھانا پیش کیا مگر ان لوگوں نے صاحب خانہ کی غیر موجودگی میں کھانا کھانے سے انکار کردیا ۔

یہ سن کر آ پ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے صاحبزادے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بہت زیادہ خفا ہوئے اور وہ خوف ودہشت کی و جہ سے چھپ گئے اورآپ کے سامنے نہیں آئے پھر جب آپ کا غصہ ختم ہوگیا تو آپ مہمانوں کے ساتھ کھانے کے لیے بیٹھ گئے اورسب مہمانوں نے خوب شکم سیر ہوکر کھانا کھالیا۔

 ان مہمانوں کا بیان ہےکہ جب ہم کھانے کے برتن میں سے لقمہ اٹھاتے تھے تو جتنا کھانا ہاتھ میں آتا تھا اس سے کہیں زیادہ کھانا برتن میں نیچے سے ابھر کر بڑھ جاتا تھا اورجب ہم کھانے سے فارغ ہوئے تو کھانا بجائے کم ہونے کے برتن میں پہلے سے زیادہ ہوگیا۔

 حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے متعجب ہوکر اپنی بیوی صا حبہ سے فرمایا کہ یہ کیا معاملہ ہے کہ برتن میں کھانا پہلے سے کچھ زائد نظر آتاہے ۔

بیوی صا حبہ نے قسم کھاکر کہا: واقعی یہ کھانا تو پہلے سے تین گنا بڑھ گیا ہے ۔  پھرآپ اس کھانے کو اٹھا کر بارگاہ رسالت  ﷺ میں لے گئے ۔

 جب صبح ہوئی تو ناگہاں مہمانوں کا ایک قافلہ درباررسالت میں اتراجس میں بارہ قبیلوں کے بارہ سردار تھے اور ہر سردار کے ساتھ بہت سے دوسرے اونٹ سوار بھی تھے ۔

ان سب لوگوں نے یہی کھانا کھایااورقافلہ کے تمام سرداراورتمام مہمانوں نے اس کھانے کو شکم سیر  ہو کر کھایا  ، لیکن پھر بھی اس برتن میں کھانا ختم نہیں ہوا


(صحیح البخاری،کتاب المنا قب،باب علامات النبوۃ فی الاسلام، الحدیث: ۳۵۸۱، ج۲، ص۴۹۵ بالاختصار)  



Tuesday, November 21, 2017

بہو نے ساس کو زہر دینے کی کوشش کی پھر کیا ہوا ؟



فہمیدہ اپنی ساس اور شوہر کے ساتھ رہتی تھی۔ شروع شروع میں تو  صلح صفائی سے دن گزرتے رہے لیکن  کچھ ہی عرصے بعد ان کے درمیان نوک جھونک کا سلسلہ دراز ہونے لگ ۔ .

 نااتفاقیوں نے گھر کا ماحول خراب کردیا جسکی وجہ سے اُس کا شوہر بھی پریشان رہنے لگا تھا۔ فہمیدہ کو محسوس ہوا کہ اب وہ اپنی ساس کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔روز روز کی لڑائیوں کی وجہ خاندان بھر میں رسوائی ہورہی تھی اور الگ رہنا ممکن نہ تھا چنانچہ اس  نے اپنی ساس کو ہی راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔

فہمیدہ کے ماموں سمجھدار حکیم تھے۔ وہ اُن کے پاس گئی اور اپنی داستانِ غم سنانے کے بعد کہا: مجھے تھوڑا زہر دے دیں تاکہ اپنی ساس سے پیچھا چھُڑاسکوں۔

فہمیدہ کے  ماموں اس  کا مسئلہ سمجھ گئے لہٰذا انہوں نے اس کے حل کے لئے حکمتِ عملی اپنائی اور کہا: بیٹی! اگر تم اپنی ساس کو مارنے کیلئے فوری زہر استعمال کرو گی تو سب تم پر شک کریں گے، اس لئے میں تمہیں یہ جڑی بوٹیاں دے رہا ہوں یہ آہستہ آہستہ جسم میں اثر  پھیلائیں گی۔

بس تم ہر روز کچھ اچھا پکانا اور اس میں یہ جڑی بوٹیاں ڈال دینا اور ہاں! اگر تم چاہتی ہو کہ کوئی تم پر شک نہ کرے تو یہ خیال رکھنا ہوگا کہ تمہارا رویّہ انکے ساتھ بہت دوستانہ ہو۔ ان سے لڑائی مت کرنا، ان کی ہر بات ماننا اور انکے ساتھ بالکل سگی ماں جیسا برتاؤ کرنا۔

فہمیدہ نے ماموں کو ان باتوں پر عمل کا یقین دلایا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے جڑی بوٹیاں لے کر گھر چلی آئی۔ اب وہ موقع بموقع کوئی اچھی چیز پکا کر اپنی ساس کو خاص طور پر پیش کرتی۔

 کسی بھی معاملے میں ساس بات کرتی یا ڈانٹتی تو وہ ماموں جان کی نصیحت کے مطابق غصے پر قابو رکھتے ہوئے اپنی ساس کی خدمت کرتی اور ہر بات کا جواب حسنِ اخلاق سے دیتی۔

چھ مہینے گزر گئے، اب گھر کا نقشہ تقریباً بدل چکا تھا۔ فہمیدہ کی خدمت، باادب گفتگو اور سلیقہ شعاری ساس کو اس قدر بھائی کہ وہ اُسے اپنی بیٹیوں کی طرح سمجھنے لگی۔

ساس کی طبیعت میں نرمی، بہو کی جانب جھکاؤ اور بیٹی جیسا سلوک دیکھ کر فہمیدہ بھی ساس کو اپنی ماں کی طرح سمجھنے لگی تھی۔

فہمیدہ کے اس عمل نے پورے گھر کو امن کا گہوارہ بنادیا تھا ،اس کا شوہر بھی اس سے بہت زیادہ خوش ہوتھا ،پورے خاندان میں اس کی سلیقہ شعاری اور اچھے اخلاق کی دھوم مچ گئی تھی۔

اب فہمیدہ  ایک دن پھر اپنے ماموں جان سے ملنے گئی اورکہنے لگی:تقریباً ایک مہینہ سے میں آپ کی جڑی بوٹیاں اپنی ساس کو نہیں کھلارہی بس اب آپ مجھے کوئی طریقہ بتائیے کہ میں اپنی ساس کو اس زہر کے اثر سے کیسے بچاؤں جو میں نے اُنہیں دے دیا ہے ۔۔۔ ؟ ایسا لگ رہا کہ وہ جڑی بوٹیاں تو کوئی جادوئی شے تھی میری ساس تو بہت بدل گئی ہیں،بلکہ  میں بھی ان سے بہت پیار کرتی ہوں اور میں نہیں چاہتی کہ وہ اس زہر کی وجہ سے مر جائیں۔

ماموں جان مسکرائے اور کہنے لگے: تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں، میں نے تمہیں ”زہر“ دیا ہی نہیں تھا بلکہ جو جڑی بوٹیاں میں نے تمہیں دی تھیں وہ طاقت کی تھیں تاکہ تمہاری ساس  کی صحت بہتر ہوجائے،  زہر صرف تمہارے ذہن اور رویے میں تھا لیکن وہ سب تم نے اپنے پیار سے ختم کردیا، جاؤ اور خوش و خُرم زندگی گزارو۔

ياد رکھئے! ہمارا رويّہ ، ہمارے الفاظ اور ہمارا لہجہ يہ فیصلہ کرتا ہے کہ دوسرے ہمارے ساتھ کيا رويّہ اپناتے ہيں،اگر آپ چاہتے ہیں کہ دوسرے آپ کی عزت کریں آپ کے حقوق ادا کریں تو آپ ان کی عزت کرنا شروع کردیں ان کے حقوق پورے کرنے میں لگ جائیں،نتیجہ کیا آئے گا پریکٹیکل کرکے دیکھ لیں۔





Monday, November 20, 2017

دو ہفتے پہلے میٹھے چاولوں کی دیگ اتاری تھی، اس دن سے روزانہ میٹھے چاول کھا رہا ہوں




برگد(جسےپنجابی میں بوہڑبھی کہتے ہیں) کے درخت  کے نیچے بیٹھے گاؤں کے کچھ لوگ خوش گپیوں میں  مصروف تھے کہ  حاجی صاحب نے  کسی سے گفتگو کے دوران بولا :ـ 

"دو ہفتے پہلے میٹھے چاولوں کی  دیگ اتاری تھی، اس دن سے روزانہ میٹھے چاول  ہی کھا رہا ہوں"

میٹھے چاول شادّے کی پسندیدہ ڈش تھی جیسے ہی اس  کے کان میں یہ بات پڑی تو اس کے منہ میں پانی آ گیا اور  اس نے کچھ سوچے سمجھے بغیر  یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ بھی ایسا ہی کرے گا ، یوں اسے   کافی دن تک میٹھے چاول کھانے کو ملیں گے  ۔۔۔

لہذا اس نے سب سے چھپ کر ساتھ  والی  حویلی میں  میٹھے چاول بنائے اور لا کر "تُوڑی" والے کمرے میں چھپا دئیے ۔۔  

اب وہ چھپ کر  توڑی والے کمرے میں آتا اور مزے سے چاول اڑاتا ۔

 پہلے دن کھائے، دوسری دن بھی کھائے، مگر تیسرے دن اس میں سے بُو آنے لگی مجبوراً باقی چاول ضائع کرنا پڑے ۔۔۔ اگلے دن پھر سے وہ درخت کے نیچے پہنچا تو حاجی صاحب بھی نظر آئے
 
شادّہ حاجی صاحب کے پاس گیا  اور حیرانی سے کہنے لگا " حاجی صاحب میں نے بھی میٹھے چاول بنائے تھے  دو دن کھائے 

تیسرے دن اتنی شدید بدبو آنے لگی کہ مجبوراً ضائع کرنا پڑے۔۔۔ تو آپ  دو ہفتوں سے کیسے کھا رہےہیں  ۔۔۔ ؟

حاجی صاحب  اس کی بات سن کر ہنس پڑے ۔۔۔ اور کہنے لگے "میں نے دو ہفتے پہلے میٹھے چاول کی دیگ اتروا  کر محلے کے ہر گھر میں بانٹ دی تھی۔۔۔ اس کے بعد سے روزانہ جس کسی گھر میں میٹھے چاول پکتے ہیں وہ میرے گھر بھی بھجوادیتا ہے، اس طرح ہر روز کھاتا ہوں ۔۔۔

یقین کیجئے ،،، فقط اللہ عزوجل کی رضا کے لئے   اگر آپ دوسروں کے خوشی غم میں شریک ہوں  گے ، راہ چلتے لوگوں کو سلام کریں گے ، عزیز و اقارب کے لیے خاص وقت نکالیں گے، معاشرے کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں ۔مساجد  و مدارس میں خوش دلی سے خوب مالی امدادکریں گے ،

 تو  آپ کی پریشانی  پر اطراف میں ہر کوئی فکرمند دکھائی دے گا، راہ چلتے ہوئے پلٹ کر نجانے کتنے سلام آنے لگیں گے، خوشی غمی میں خود کو تنہا نہیں پائیں گے، مشکل وقت پر عزیز و اقارب آپ کے اسی طرح کام آئیں گے جس طرح آپ آئے ہوں گے ۔۔۔


یہ تعلیمات اسلامیہ ہیں،جن پر اگر ہم عمل پیرا ہوجائیں تو وہ دن دور نہیں ہم  ان شاء اللہ  ایک خوبصورت معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو جائیں گے   ۔



گورنر کا خواب



حضرت ابراھیم بن بشار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الغفّار فرماتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت ابراھیم بن ادھم علیہ رحمۃُ اللہ الاکرم کے ساتھ صحراء میں شریک سفر تھا کہ ہمیں ایک قبرنظر آئی ۔

حضرت سَیِّدُنا ابراھیم بن ادھم علیہ رحمۃُ اللہ الاکرم اس قبر پر تشریف لے گئے اور قبر والے کے لئے دعائے مغفرت کی ، پھر رونے لگے۔

 میں نے عرض کی:یہ قبر کس کی ہے؟ جواب دیا:یہ قبر حمید بن ابراہیم (رَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ)کی ہے جویہاں کے تمام شہروں کے گورنر تھے اور دنیا کی محبت میں غرق تھے ،  اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں بچا لیا۔

اتنا کہنے کے بعد فرمایا: یہ ایک دن اپنی مملکت کی وسعت اور دنیاوی مال ودولت کی کثرت سے بہت خوش تھے ،اسی دوران جب یہ سوئے تو خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی، ان کے سرہانے آن کھڑا ہوا ۔

 حمید نے اس شخص سے کتاب لے کر اسے کھولا تو اس میں جَلی حروف سے لکھاتھا:فنا ہوجانے والی کو باقی رہ جانے والی پر ترجیح نہ دے اور اپنی مملکت، حکومت، بادشاہت، خُدام ، غلام اور لذات وخواہشات میں کھو کر غافل مت ہوجا ،

بے شک جس میں تو مگن ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ، بظاہر جو تیری ملکیت ہے وہ حقیقتاً ہلاکت ہے ، جو فرح وسرور ہے وہ حقیقت میں لھو وغرور ہے ، جوآج ہے اس کا کل کچھ پتہ نہیں ، اللّٰہ عزوَجل کی بارگاہ میں جلدی حاضر ہوجاؤ کیونکہ اس کا فرمان ہے

 ترجمۂ کنزالایمان:اور دوڑو اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان اور زمین آجائیں ،پرہیز گاروں کے لئے تیار کر رکھی ہے ۔
( پ۴، اٰل عمران:۱۳۳ )

جب یہ نیند سے بیدار ہوئے تو بے اختیار ان کے منہ سے نکلا :یہ  اللّٰہ عزوَجَل کی طرف سے تنبیہ اور نصیحت ہے ۔پھر کسی کو کچھ بتائے بغیر یہ اپنے ملک سے نکل آئے اور ان پہاڑوں میں آ بسے ۔

جب مجھے ان کا واقعہ معلوم ہوا تو میں نے انہیں تلاش کیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے یہ واقعہ مجھے سنایا ،پھر میں نے بھی انہیں اپنا واقعہ سنایا۔ میں برابر ان سے ملاقات کے لئے آتا رہا ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا اور یہیں ان کو دفن کر دیا گیا۔

اللہ  تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ،، ، آمین ۔
(نیکیاں برباد ہونے سے بچائیے ، ص : 57 ، مکتبۃ المدینہ ، دعوت اسلامی )  





Saturday, November 18, 2017

محمود و ایاز اور ککڑی کی قاش


 
       منقول ہے  کہ  مشہور عاشقِ رسول ، سلطان محمود غزنوی علیہ رَحمۃُ اللّٰہ القوی کے پاس کوئی شخص ککڑی لے کر حاضِر ہوا۔ سُلطان نے ککڑی قَبول فرما لی اور پیش کرنے والے کو انعام دیا ۔

 پھر اپنے ہاتھ سے ککڑی کی ایک قاش تراش کر اپنے منظورِ نظر غلام ایاز کو عطا فرمائی۔ ایاز مزے لے لے کر کھا گیا۔پھر سلطان نے دوسری پھانک کاٹی اور خود کھانے لگے تو وہ اس قَدَر کڑوی تھی کہ زَبان پر رکھنا مشکل تھا ۔

 سلطان نے حیرت سے ایاز کی طرف دیکھا اور فرمایا:’’ ایاز! اتنی کڑوی پھانک تُو کیسے کھا گیا ؟ واہ ! تیرے چہرے پر توذرّہ برابر ناگواری کے اثرات بھی نُمُودار نہ ہوئے ؟‘‘

 ایاز نے عرض کیا: ’’عالی جاہ! ککڑی واقِعی بَہُت کڑوی تھی۔ مُنہ میں ڈالی توعَقْل نے کہا :’’ تھوک دے ۔‘‘ مگر عشق بول اُٹھا:’’ ایاز خبردار! یہ وُہی ہاتھ ہیں جن سے روزانہ میٹھی اَشیاء کھاتا رہا ہے، اگر ایک دن کڑوی چیز مل گئی تو کیاہوا! اِس کو تھوک دینا آدابِ محبت کے خلاف ہے لہٰذا عشق کی رہنمائی پرمیں ککڑی کی کڑوی قاش کھا گیا۔‘‘

اپنے مولا  کی اس قدر نعمتیں استعمال کرنے والا انسان  اگر ایاز کی طرح سوچ بنا لے تو بے صبری کبھی قریب سے بھی نہیں گزر سکتی۔

اللہ تعالیٰ کی ان پررحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ،،، آمین ۔


(نیکیاں برباد ہونے سے بچائیے ، ص:47 ، مکتبۃ المدینہ ، دعوت اسلامی)



محمود و ایاز اور ککڑی کی قاش


 
       منقول ہے  کہ  مشہور عاشقِ رسول ، سلطان محمود غزنوی علیہ رَحمۃُ اللّٰہ القوی کے پاس کوئی شخص ککڑی لے کر حاضِر ہوا۔ سُلطان نے ککڑی قَبول فرما لی اور پیش کرنے والے کو انعام دیا ۔

 پھر اپنے ہاتھ سے ککڑی کی ایک قاش تراش کر اپنے منظورِ نظر غلام ایاز کو عطا فرمائی۔ ایاز مزے لے لے کر کھا گیا۔پھر سلطان نے دوسری پھانک کاٹی اور خود کھانے لگے تو وہ اس قَدَر کڑوی تھی کہ زَبان پر رکھنا مشکل تھا ۔

 سلطان نے حیرت سے ایاز کی طرف دیکھا اور فرمایا:’’ ایاز! اتنی کڑوی پھانک تُو کیسے کھا گیا ؟ واہ ! تیرے چہرے پر توذرّہ برابر ناگواری کے اثرات بھی نُمُودار نہ ہوئے ؟‘‘

 ایاز نے عرض کیا: ’’عالی جاہ! ککڑی واقِعی بَہُت کڑوی تھی۔ مُنہ میں ڈالی توعَقْل نے کہا :’’ تھوک دے ۔‘‘ مگر عشق بول اُٹھا:’’ ایاز خبردار! یہ وُہی ہاتھ ہیں جن سے روزانہ میٹھی اَشیاء کھاتا رہا ہے، اگر ایک دن کڑوی چیز مل گئی تو کیاہوا! اِس کو تھوک دینا آدابِ محبت کے خلاف ہے لہٰذا عشق کی رہنمائی پرمیں ککڑی کی کڑوی قاش کھا گیا۔‘‘

اپنے مولا  کی اس قدر نعمتیں استعمال کرنے والا انسان  اگر ایاز کی طرح سوچ بنا لے تو بے صبری کبھی قریب سے بھی نہیں گزر سکتی۔

اللہ تعالیٰ کی ان پررحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ،،، آمین ۔


(نیکیاں برباد ہونے سے بچائیے ، ص:47 ، مکتبۃ المدینہ ، دعوت اسلامی)



Friday, November 17, 2017

سفید پوشاک میں آکر مدد کرنے والے یہ بزرگ کو ن تھے ؟


                                                
 منسوب احمد صاحب جو سیدی اعلیٰ حضرت  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ایک چاہنے والے اور نیک پرہیز گار ، تہجد گزار ہستی تھے ۔ایک روز ان کے اوائلِ عمر کے زمانہ کے احباب میں سے دوشخص ملنے آئے اور اپنے ساتھ بازار میں اس طرف لے گئے جہاں ایک طوائف کا مکان تھا۔

دونوں طرف سے آدمیوں نے ان کے ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیئے اور طوائف کے دروازہ تک لے گئے۔ وہ دو تھے اور یہ اکیلے۔انہوں نے اعلیٰ حضرت سے دل ہی دل میں رجوع کیااور دل ہی دل میں امدادکے طالب ہوئے ۔

دیکھتے کیا ہیں کہ حضورسیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک سفید پوشاک پہنے جلوہ فرماہیں اور دونوں ہاتھوں سے عصائے مبارک پر زور دیئے ہوئے ہیں،اورٹھوڑی عصائے مبارک پر قائم ہے۔

موصوف کا بیان ہے کہ جس وقت میری نظر حضور پر پڑی، میرے جسم میں ایسی طاقت آگئی کہ باوجود کمزور ہونے کے ان دونوں کی گرفت سے اپنے آپ کو چھڑوا لیا اور دوڑ کر اپنے مکان میں لوٹ آیا۔

اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ،،، آمین ۔

(حیاتِ اعلیٰ حضرت ص955 از مولانا ظفر الدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور)