Tuesday, 19 September 2017

ارشد نے مقابلہ لڑے بنا پہلی پوزیشن کیسے حاصل کی ؟

ہال تقریباً بھر چکا تھا   ، اسکول کےتمام طلبہ اپنی اپنی ڈرائنگ بنا کر لائے تھے کیونکہ آج اسکول میں ہر سال کی طرح  پھولوں کی ڈرائنگ کا مقابلہ تھا  جو پہلی کلاس سے لیکر آٹھویں کلاس  تک کے طلبہ کے درمیان ہوتا تھا  ۔ ہال میں طلبہ اپنے اپنے  دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں  مصروف  تھے  ایک  توصیف ہی تھا کہ جس کی نظر ارشد کو تلاش کر رہی تھی جو  اسے ابھی تک نہیں مل پا رہا تھا ۔ 
                        
توصیف اور ارشد  بہت اچھے دوست  تھے  دونوں کی ڈرائنگ  بھی بہت اچھی تھی پچھلے مقابلے میں بھی ارشد کی پہلی اور توصیف کی تیسری پوزیشن آئی تھی ۔  توصیف ارشد کا بہت خیال  رکھتا تھا کیونکہ ارشد  کے والد  کا انتقال ہو گیا تھا  اور اس کی والدہ سلائی کر کے ارشد کی پڑھائی ، مُنّی اور گھر کا خرچہ اٹھا  تی   تھیں جو بمشکل پورا ہوتا تھا ۔
                                   
 جب  ارشد نہ ملا تو  توصیف  آخر تھک ہار کر  ایک کرسی پربیٹھ گیا  ۔ توصیف جیسے ہی بیٹھا تو اس کی نظر  کونے میں رکھی ایک کرسی پر پڑی جس پر ارشد بیٹھا تھا  اور کافی افسردہ لگ رہا تھا ۔توصیف جا کر اس سے ملا اور افسردگی کی وجہ پوچھی تو ارشد کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے  مگر ارشد نے  کچھ بتانے سے انکار کر دیا   پھر توصیف کے بار بار  پوچھنے پر  ارشد نے بتایا کہ  اس مہینے جو سلائی کے پیسے آئے تھے وہ مُنّی کی دوائی پر لگ گئے  تھے  اب امی کے پاس پیسے ہی نہیں بچے تھے   اس لیے  میں اس دفع ڈرائنگ نہیں بنا سکا ۔
               
ابھی یہ باتیں چل ہی رہی تھیں کہ  اعلان ہوا کہ تما م  طلبہ اپنی اپنی ڈرائنگ  جمع کروا دیں  ۔ توصیف  بھی ارشد کو انتظار کرنے کا بول کر  اپنی ڈرائنگ جمع کروانے چلا گیا  ڈرائنگ جمع ہو جانے کے بعد  سب طلبہ کو  2 گھنٹے کے مشکل اور طویل انتظار سے گزرنا تھا تا کہ ججز تمام  ڈرائنگز دیکھ کر حتمی فیصلہ سنائیں  ۔  جیسے تیسے کر کے   یہ وقت گزرا اور  تمام ڈرائنگز  میں  سےتین  کو  چن لیا گیا  تھا جن کااب  اعلان ہونا تھا ۔
                                
چنانچہ اعلان کر دیا گیا کہ تمام طلبہ نشستوں پر واپس آ جائیں  تا کہ پوزیشن  ہولڈرز کا اعلان کیا جائے  ۔  اب ہال ایک بار پھر بھر چکا تھا  ہر طرف  خاموشی طاری تھی  ۔   توصیف  ارشد کےساتھ بیٹھا  تھا  ارشد  کافی افسردہ جبکہ توصیف بالکل پر سکون بیٹھا تھا ۔ اس کےچہرے پر ایک  الگ ہی اطمنان تھا  ۔
                
 اعلان شروع ہوتا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ ! ارشد نے  آنکھیں بند کر لیں تھیں  شاید وہ اس  دکھ کا سامنا نہیں کر پارہا  تھا ۔ تیسری اور دوسری  پوزیشن  کا اعلان ہو چکا اب پہلی پوزیشن  کی باری تھی    ارشد کی ہمت جواب دے چکی تھی ۔
                
مگر  یہ کیا ۔۔۔  !  ارشد کو ایک زوردار  جھٹکا لگا   اس کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا  کہ وہ جو سن رہاہے وہ خواب ہے یا حقیقت کیونکہ  اسٹیج پر پہلی پوزیشن کے لیے ارشد کا نام  پکارا جا رہا تھا  ۔  ارشد  کرسی سے نہیں اٹھ رہا تھا  کہ شاید یہ غلط فہمی  کی بنا پر  ہو گیا ہے  ۔  ارشد کو  آس پاس کے طلبہ نے  اسٹیج  پر جانے کے اشارے کرنا شروع کر دئیے   اب  اسے یقین ہو گیا کہ یہ میرا ہی نام پکارا جا رہا ہے  لہذا وہ اسٹیج کی طرف  چلنے لگا   ۔
                                
ارشد ایک  حیرت کی تصویر بنا  اسٹیج کی طرف چلا جا رہا تھا  ۔ وہ کبھی  اسٹیج کی طرف  دیکھ رہا تھا کبھی توصیف کی طرف وہ  کچھ کچھ معاملہ سمجھ چکا تھا ۔ وہ  حیران   تھا کہ یہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے ۔ اوپر پہنچ کر اسے اس کا انعام  دیا گیا تو اس نے  ٹیچر سے  مائک میں کچھ بولنے کی اجازت  مانگی جواسے دے دی گئی ۔
                       ارشد نے مائیک میں بولنا شروع کیا   :  آج  ایک دوست نےدوسرے دوست کی پریشانی میں مدد کرنے کی عظیم  مثال قائم کی ہے ۔ میں  آپ سب کو بتانا چاہتا ہوں کہ  میں  اپنی گھریلو  پریشانیوں اور  پیسے نہ ہونے  کی وجہ سے  اس  دفع ڈرائنگ نہ  بنا سکا  تھا  اور آج میں نے کوئی ڈرائنگ جمع نہیں کروائی تھی  بلکہ یہ  میرے دوست توصیف کی ڈرائنگ  ہے  جو اس نے میر ے نام پر جمع کروا ئی ہے ۔
                               
اتنا بولنا تھا  کہ پورے ہال پر  حیرانی کی کیفیت طاری تھی ہر کوئی   توصیف کی تعریفیں کرنے لگا تھا۔ یہ سب  دیکھ کر اسکول کے پرنسپل  نے مائک پکڑا اور کہنے لگے  : میں توصیف  کے اس کام کوسراہتے ہوئے  ایک اعلان کرتا ہوں کہ  آج پہلی دفع کسی ایک ڈرائینگ پر اسکول  کی انتظامیہ  دو بچوں کو  اوّل پوزیشن دینے جا رہی ہے ۔ ایک  تو اس  کوکہ جس کی یہ ڈرائنگ ہے اور دوسری اس کے دوست کو کہ  جس کے نام پر یہ  ڈرائنگ جمع کروائی گئی ۔
                      
اتنا سننا تھا کہ توصیف بھی خوشی سے کِھل اٹھا  اور  اسٹیج  کی طرف چل دیا  ۔  انعام حاصل کرنے کے بعد توصیف پیچھے پلٹا تو   ارشد سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا  توصیف بھی جواباً   مسکرایا اور دونوں  گلے لگ گئے ۔  
کبھی اپنی خوشی اپنی کسی عاشق رسول بھائی کو دیکر دیکھیں تو صحیح کہ سکون کس نعمت کا نام ہے۔اخلاص کے ساتھ پریشان حال مسلمانوں کی مدد کریں برکت خود دیکھ لیں گے۔

’’بیشك الله تعالٰی کے نزدیك فرضوں کے بعد سب اعمال سے زیادہ محبوب مسلمان کو خوش کرنا ہے۔‘‘
(المعجم الکبیر مرویات عبداللہ ابن عباس حدیث ١١٠٩ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ١١/ ٧١)



فلمیں ، ڈرامے اور ہمارے بچے



’’بابا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔بابا۔۔۔۔۔۔ ‘‘
لائبریری  کی خاموشی کو چیرتی ہوئی یہ  آوازجب مطالعے میں غرق اسد صاحب کے کانوں میں پڑی تو ایک دم چونک گئے۔
اوربولے:جی بیٹا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ؟ ‘‘
بابا  ایک بات پوچھوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔   ؟
جی پوچھئے ۔ ۔ ۔ ۔۔
بابا اگلے جنم میں آپ کیا بن کر آئیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔   ؟
تھوڑی دیر تک تو اسد صاحب سناٹے میں رہے اور پھر ہکلاتے ہوئے بولے: ک ک ک ک ککیا  مطلب  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تم ک ک کیسی بات کررہے ہو؟ 
بابا۔فلاں کارٹون (نام حذف کیا جاتا ہے) میں  تو ہم دیکھتے کہ وہ مرنے کے بعد دوسرا ،پھر تیسرا ،اور کبھی کتے کی شکل میں تو کبھی بلی کی شکل میں جنم لے رہے ہوتے ہیں اورمیرا دوست کہتا ہے کہ  وہ  اگلے جنم میں  پائلٹ بن کر آئے گا اور میں بھی  ۔۔۔۔۔
خاموش ہوجاو۔۔۔
اسد صاحب کا غصہ آسمان کو چھونے لگاتھا اور قریب تھا کہ وہ حسن کو زور دارتھپڑ دے مارتے لیکن ایک دم بیٹھ گئے ۔
اور سوچنے لگے کہ اصل قصور تو میرا ہے! اگر شروع ہی سے اسے اسلامی تعلیمات دی ہوتیں تو یہ کبھی بھی اس طرح کی بات نہ کرتا۔پھر کہنے لگے۔
حسن بیٹا  یاد رکھیں کسی بھی ایک انسان کی روح دوسرے کے بدن میں نہیں جاتی ۔ایک ہی دفعہ پیدا ہونے کے بعد مرجانا ہے اور پھر قبر کے سوالات اور اس کے بعد قیامت ہوگی مرنے کے بعد نئے جنم کا عقیدہ رکھنا بالکل غلط اور جھوٹا نظریہ ہے۔ انسان کو ایک ہی زندگی ملتی ہے۔
اب  تم جا کر سو جاؤ  صبح اسکول بھی جانا ہے  ۔۔۔۔۔            اسد صاحب نے بات کا رخ تبدیل کیا اور خود بھی اٹھ کر چل دیےساتھ ہی حسن بھی بوجھل سا دل لئے بستر کی طرف چل پڑا  ۔
جیسے تیسے رات گزاری  اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
عمار حسن جیسے ہی آفس سے گھر میں داخل ہوئے، ناصر بھاگتے ہوئے ان سے چپک گیا اور کہنے لگا:پاپا۔ ایک بات پوچھو آپ سے ؟
بھائی سکون سے بیٹھنے تو دو۔
یہ کہتے ہی عمار حسن کاسیل فون ایک فلمی گانے کی ٹون کے ساتھ بجنے لگا۔فون سننے کے بعد یہ کہتے ہوئے واپس چل پڑے کہ آفس میں ضروری کام پڑگیا ہے میں رات کو آوں گا
بیچارہ ناصر اپنا سا منہ لے کر اپنے موبائل پر انٹرنیٹ کے ذریعے کچھ دیکھنے لگا۔
رات کو جیسے ہی عمارحسن گھر میں داخل ہو کر صوفہ پر بیٹھے ہی تھے کہ ناصر پھر آگیااور کہا ،بابا ،میں نے آپ سے ایک پوچھنی تھی مگر آپ نے جواب نہیں دیا میں آپ سے ناراض ہوگیا ہوں۔
ارے بھائی معاف کردو ،ابھی آپ کی بات سن لیتے ہیں ،چلوآپ کی بات سنے بغیر یہاں سے نہیں اٹھیں گے۔چلو بولو۔عمارحسن نے اپنے چاند سے 6 سالہ بیٹے ناصر کو منانے کے لئے اس انداز سے کہا
بابا:ہمارے دادا ابوکہاں ہیں؟
بیٹا ،ان کا انتقال ہوچکا ہے۔
بابا :آپ نے ان کو کہاں جلایا تھا؟
یہ کیسی الٹی باتیں کررہے ہو۔کون سکھاتا ہے تمہیں اس طرح کی باتیں ،
ناصر ایک دم سہم کر :بابا وہ  میں نے ٹی وی بلکہ  انٹرنیٹ پر بھی دیکھا ہے کہ لوگ مرنے والے کو جلادیتے ہیں ۔تو ظاہر ہے  آپ نے دادا ابو کو بھی جلایا ہو گا  آپ کو بھی تو مرنے کے بعد جلایا جائے گا مجھے تو بہت ڈر لگتا ہے میں تووہاں کھڑا نہیں ہوں گا۔
عمار حسن کا دماغ چکرا گیا تھا ناصر کی باتیں ان کے دماغ پر ہتھوڑے بن کر پڑ رہی تھیں اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
فیضان جمال مصطفی مسجد میں فجر کی نماز کے بعد مسجد  کے امام صاحب مدنی حلقہ سے فارغ ہوئے تو ان  کے پاس دوپریشان حال  صاحب آ گئے،ان میں سے ایک کا نام اسد صاحب دوسرے عمار حسن تھے دیکھنے سے کھاتے پیتے گھرانے کے لگ رہے تھے ۔دونوں نے امام صاحب سے کچھ وقت دینے کا کہا تو امام صاحب نے دونوں کی الگ الگ گفتگو سنی ،دونوں نے اپنی دکھ بھری داستانیں سنائیں تو امام صاحب جو دعوت اسلامی کے فعال مبلغ  بھی تھےکہنے لگے ۔آپ لوگوں کے بچے جیسے ماحول میں رہیں گے ان پر ویسا اثر بھی آئے گا، جو دیکھیں گے وہ سیکھیں گے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ آپ لوگ بھی جیسا ماحول گھر میں رکھیں گے بچے بھی ویسے کام کریں گے۔
تو اب ہم کیا کریں۔اسد صاحب بولے
 الحمد للہ عزوجل آپ لوگ تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر تحریک دعوت اسلامی  کو تو جانتے  ہیں ،مدنی چینل کو بھی جانتے ہیں خود مدنی قافلوں میں سفر ،ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں حاضری ،روزانہ عشاء کی نماز کے بعد یہاں درس ہوتا ہے،بعد فجر مدنی حلقہ ، اس میں شرکت اسی طرح دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے منسلک ہوجائیں اور ناصر ، حسن دونوں  کا داخلہ  دعوت اسلامی کے اسکولنگ سسٹم  ’’ دار المدینہ ‘‘ میں کروایا جائے  جس میں دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کابھی مکمل ماحول میسر آتا ہے۔  یہ مشورے سن کر امام صاحب نے محسوس کیا کہ  دونوں اپنے آپ کو ہلکا ہلکا محسوس کرنے لگے ہیں ۔چنانچہ امام صاحب نے آنے والے ہفتہ وار اجتماع کے بعد مدنی قافلے کی نیت کے ساتھ دونوں سے مدنی قافلے کے اخراجات بھی وصول کرلئے۔
آئیے:آپ بھی اس  فرضی قصہ کو اپنے لئے مشعل راہ بناتے ہوئے اپنے حقیقی مستقبل کو روشن کرنے کے لئے دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیں۔ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں بھی عبرت کے لئے یاد کیا جائے۔
ضروری مسائل: : یہ خیال کہ وہ روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے، خواہ وہ آدمی کا بدن ہو یا کسی اور جانور کا جس کو تناسخ اور آواگون کہتے ہیں، محض باطل اور اُس کا ماننا کفر ہے۔
(بہار شریعت جلد1 ص103مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

 میّت کو دفن کرنا فرض کفایہ ہے(بہار شریعت جلد1 ص842)



Monday, 18 September 2017

انسانوں پر اللہ تعالٰی کی اصل نعمت کیا ہے ؟


اﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ : ﺍللّہ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﭼﮭﯿﻦ ﻟﯿﺘﺎ ھﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﻨﮯ, ﺍﻭﮌﮬﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ کیلئے ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﻣﻮﺟﻮﺩ ھﻮﺗﺎ ھﮯ ﺍللّہ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﺗﻮﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﯿﻨﺘا
 . ﺑﺰﺭﮒ ﻣﺴﮑﺮﺍئے ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ :
ﮐﯿﺎﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻧﻤﺎﺯ ﻣِﯿﮟ ﺧﺸﻮﻉ ﻭﺧﻀﻮﻉ ھﮯ؟
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺑﻮﻻ : ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﯿﺎ ﻗﺮﺁﻥ پاک ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﻟﺬﺕ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﯽ ھﮯ؟
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺑﻮﻻ : ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﯿﺎ ﭘﺎﻧﭻ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ھﻮ؟
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺑﻮﻻ : ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﯿﺎﻧﯿﮑﯽ ﮐﺮﻧﮯ کا دل چاہتا ہے ؟
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺑﻮﻻ : ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﯿﺎ ﺯﺑﺎﻥ ﺍللّہ ﮐﮯ ﺫﮐﺮ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﯼ ھﮯ؟
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺑﻮﻻ : ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﺐ ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ : ﺍللّہ تبارک و تعالی کی یہ زیادہ عظیم الشان ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ہیں ﺟﻨﮭﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﮭﯿﻦ ﻟﯿﺘﺎ ھﮯ ...
ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺩﻭﺭﻣﯿﮟ بعض لوگ اللّہ ﮐﯽ ﺩﯼ ﮨﻮئی ﻣﺎﺩﯼ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﻮﭘﺎ ﮐﺮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﻤﺠﮭنا شروع کردیتے ہیں کہ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺗﻮﺍللّہ ﮐﺎ ﺩﯾﺎ ھﻮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﻣﻮﺟﻮﺩ ھﮯ۔ لیکن اصل نعمت تو نیکی ہے۔اللہ تعالی ہمیں نیکیوں کی توفیق مرحمت فرمائے۔آمین ...



ﺟﺒﮑﮧ ﻭﮦ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﺯﻣﺎﺋﺶ ﮨﯿﮟ ﺍﺻﻞ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﺍللّہ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻟﮯ ﺟﺎﯾﺌﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﺎﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﺰﺍﺭﺍﻭﺭ ﺷﮑﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺎﯾﺌﮟ .



Saturday, 16 September 2017

ہرنی کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو

 
           حضرت اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک دفعہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک صحراء میں سے گزر رہے تھے۔ کسی ندا دینے والے نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ’یارسول اﷲ‘ کہہ کر پکارا۔
                          
 آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم آواز کی طرف متوجہ ہوئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سامنے کوئی نظر نہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دوبارہ غور سے دیکھا تو وہاں ایک ہرنی بند ھی ہوئی تھی۔ اس نے عرض کیا: یارسول اﷲ، میرے نزدیک تشریف لائیے۔
                                         
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کے قریب تشریف لے گئے اور اس سے پوچھا: تمہاری کیا حاجت  ہے؟ اس نے عرض کیا: اس پہاڑ پر میرے دو چھوٹے چھوٹے نومولود بچے ہیں۔ بس آپ مجھے آزاد کردیجئے کہ میں جا کر انہیں دودھ پلا سکو پھرمیں واپس لوٹ آؤں گی۔
                           
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پوچھا: کیا تم ایسا ہی کرو گی؟ اس نے عرض کیا: اگر میں ایسا نہ کروں تو اﷲتعالیٰ مجھے سخت عذاب دے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے آزاد کردیا۔
                     
 وہ گئی اس نے اپنے بچوں کو دودھ پلایا اور پھر واپس لوٹ آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے دوبارہ باندھ دیا۔ پھر اچانک وہ اعرابی (جس نے اس ہرنی کو باندھ رکھا تھا ادھر آ گیا اور ) اس نے عرض کیا: یارسول اﷲ! میں آپ کی کوئی خدمت کرسکتا ہوں؟
                  
 آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اس ہرنی کو آزاد کردو۔ پس اس اعرابی نے اسے فوراً آزاد کردیا۔ وہ وہاں سے دوڑتی ہوئی نکل گئی  اور وہ یہ کہتی جارہی تھی: میں گواہی دیتی ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اﷲتعالیٰ کے رسول ہیں۔ ( المعجم الکبير لطبراني ، 23 /331، الرقم: 763 )

یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد، ہاں یہیں چاہتی ہے ہرنی داد                 ہاں اِسی در پر شترانِ ناشاد گلۂ رنج و عنا کرتے ہیں
  



Friday, 15 September 2017

چور کو تالا توڑنے پر لوگ سزا دینے کے بجائے شاباشی کیوں دینے لگے


                 
 ایک خاتون اپنی ڈیوٹی پر تھی جب اسے گھر سے فون کال موصول ہوئی کہ آپ کی بیٹی سخت علیل ہے، اچانک اسے بخار ہو گیا ہے جو لمحہ بہ لمحہ تیزتر ہوتا جا رہا ہے۔ خاتون گھر کیلئے روانہ ہوئی اور راستے میں ایک فارمیسی پر دوا لینے کیلئے رک گئی، جب واپس وہ اپنی گاڑی کے پاس پہنچی تو اسے پتا چلا کہ بوکھلاہٹ میں گاڑی کی چابیاں اندر ہی لاک ہو چکی ہیں،گاڑی کھولنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، نہ اسے یہ معلوم تھا کہ ایسی صورت میں کیا کیا جائے۔
                    
مشکل وقت میں ایسی دوہری مصیبت لازمی پیش آتی ہے جب بوکھلاہٹ میں انسان احتیاط کا دامن چھوڑ کر کچھ مزید الٹا کر بیٹھتا ہے، ایسے حالات میں اپنے حواس اور اقدامات پر مناسب انداز میں قابو رکھنا چاہئے تاکہ کوئی اضافی مسئلہ کھڑا نہ ہو جائے۔
                  
 خاتون نے اپنے گھر فون کرکے بچی کی صورتحال معلوم کی جو بدستور خراب ہوتی چلی جا رہی تھی، اس نے آیا کو بتایا کہ میری گاڑی کی چابیاں اندر ہی لاک ہو چکی ہیں اور کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ کیا جائے؟ آیا نے اسے بتایا : اگر کہیں قریب سے کوٹ کا ہینگر مل جائے تو اس کا تار شیشے میں پھنسا کر اسے نیچے کیا جا سکتا ہے۔
                  
 قریب ہی ایک ڈرائی کلینر کی دکان سے اسے کوٹ ہینگر تو مل گیا مگر اسے استعمال کرنے سے وہ قاصر رہی، خاتون کی مشکل دیکھ کر کچھ اور لوگ بھی اس کی مدد کو پہنچے، کسی نے دوسری قسم کی چابیاں لگانے کی کوشش کی، کسی نے مکینک اور کسی نے چابی بنانے والا ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر سب کچھ بے سود ہی رہا۔
                                     
لمحہ لمحہ قیمتی تھا، جس قدر بھی وقت ہاتھوں سے پھسلا جا رہا تھا وہ خاتون کی بے چینیوں میں مزید اضافہ کر رہا تھا،مختلف چابیاں ٹرائی کرنے والے نوجوان نے آخرکار بے بس ہو کر افسوس کی شکل میں کاندھے اچکائے اور سوری کہہ کے ہارے ہوئے انداز میں پیچھے ہٹ گیا، خاتون نے آخری امید ٹوٹنے پر ہینگر ہاتھ سے پھینکا اور آسمان کی طرف دیکھنے لگی، غم کے مارے اس کا حال گھمبیر ہوتا جا رہا تھا یہاں تک کہ اس نے آخری امید کے طور پر خدا کی بارگاہ میں کاندھے جھکا دیے۔
               
 سوائے رونے اور فریاد کرنے کے اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا، لوگ اس کے ساتھ ہمدردی کر رہے تھے مگر اسے کسی بات کا ہوش نہیں تھا، ایسے میں ایک تیز گرگراہٹ بھری پرانی سی کار آکر رکی، اس کے اندر سے دراز قد، الجھے بال اور پراگندہ لباس وال ایک شخص برآمد ہوا اور مجمع کو چیرتا ہوا خاتون کے پاس آگیا۔
           
 کیا بات ہے محترمہ ۔۔۔ ! کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہوں؟لحیم شحیم ادھیڑ عمر شخص جو میلے سے دُھسّے میں ملبوس تھا، اس نے اپنی بھاری بھر کم کھردری آواز میں خاتون کا مسئلہ دریافت کیا ۔
             
 خاتون بدستور زمین پر ہاتھ دھرے گاڑی کے ساتھ ماتھا ٹِکائے غم سے نڈھال بیٹھی تھی، اس نے ایک نظر سوال کرنے والے کا سراپا دیکھا اور سوچا یہ بدحال انسان شاید اتنا بھی نہیں جانتا ہوگا جتنا کام دیگر لوگوں نے بطورِ کوشش کرکے دکھایا ہے اسلئے اسے جواب دینے کی ہمت نہ ہوئی۔
                
 قریب ہی کھڑے ایک شخص نے آنے والے مسکین کے سامنے مسئلہ اجاگر کیا تو اس نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور خاتون سے کہا، اٹھ جاؤ بی بی اٹھ جاؤ، خدا نے آج تمہاری بھی سن لی ہے اور میرا گھیراؤ بھی خوب کیا ہے۔ مسکین صورت شخص نے اپنے ہُڈ کی لیسز کھولیں، سر سے ہڈ اتارا اور الجھی ہوئی داڑھی میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا، کوئی بھاگ کر جائے اور کہیں سے مجھے ایک کوٹ ہینگر یا تار کا کوئی ٹکڑا لا دے  ۔
             
 ایک نوجوان نے کوٹ ہینگر اٹھا کر اسے تھما دیا، اس نے ہینگر کا سرا ایک مخصوص انداز میں تھوڑا سا سیدھا کیا اور اگلی ہی آن میں گاڑی کا لاک کھول دیا۔ خاتون نے بے اختیار خوش سے بولتی چلی گئی: ارے واہ ۔۔۔ ! تم تو کوئی فرشتہ صفت انسان ہو جو اس آڑے وقت میں میری مدد کیلئے پہنچے، یقین کرو جو احسان تم نے میرے اوپر کیا ہےاس کیلئے میں تمہاری دل و جان سے مشکور ہوں ’’ تھینک یو سو مچ مائی کائینڈ اینجل‘‘  ۔
              
خاتون کی بات سن کر وہ گویا ہوا، نہیں خاتون، فرشتہ تو دور کی بات ہے میں تو ایک اچھا انسان بھی نہیں، میں ایک کار چور ہوں، ابھی ایک گھنٹہ پہلے ہی مجھے رہائی ملی ہے اور میں بے مقصد اس سڑک پر ہو لیا۔
                          
  ہاں البتہ قید کے دوران مجھے یہ خیال ضرور آتا تھا کہ اب مجھے خدا کے دائرے میں آجانا چاہئےمگر طبعیت کی ہٹ دھرمی اس خیال کے ہمیشہ آڑے آتی رہی اور میں اس سوچ کو جھٹک دیا کرتا تھا لیکن ابھی کچھ دنوں سے مجھے یہ خیال بھی آنے لگا تھا کہ خدا اگر مجھے اپنی کوئی خاص نشانی دکھائے تو پھر سوچا جا سکتا ہے اور وہ نشانی ابھی ابھی میں نے دیکھ لی ہے۔
                
 زندگی میں آج پہلی بار یوں سرعام تالا توڑا ہے پھر بھی بجائے خوف کے خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ میں نے آج خدا کی خوشنودی کو بڑے قریب سے محسوس کیا ہے۔خاتون نے رواں آنسو پونچھتے ہوئے ایک بار پھر اس کا شکریہ ادا کیا اور گویا ہوئی: تم نے سچ کہا، مجھے بھی اس میں خدا کی ایک خاص نشانی نظر آئی ہے، اس نے نہ صرف میری دعا پر جواب دیا ہے بلکہ

’’ میری مدد کیلئے کوئی عام نہیں بلکہ اس کام کے ایک پکے ماہر کو بھیجا ہے ‘‘



حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیسی دعا مانگنے سے منع فرمایا ؟

                                             
  آپ ﷺ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سخت بیمار ہو گئے، شدت ضعف کی وجہ سے اٹھنے بیٹھنے سے بھی معذور ہو گئے۔ حضور پاکﷺ عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔ بیمار صحابی نے جب حضور اکرم ﷺکو دیکھا تو خوشی سے نئی زندگی محسوس کی اور ایسا معلوم ہوا کہ جیسے کوئی مردہ اچانک زندہ ہو گیا ہو، آپ ﷺکو دیکھتے ہی بولے : زہے نصیب اس بیماری نے تو مجھے خوش نصیب کر دیا۔ جس کی بدولت میرے غریب خانے کو یہ شرف حاصل  ہوا، اے میری بیماری اور بخار اور رنج و غم اور اے درد اور بیداری شب تجھے مبارک ہو تمہارےسبب  نبی پاک ﷺ میری عیادت کو تشریف لائے ہیں ۔
        
جب آپ ﷺان کی عیادت سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا :تمہیں کچھ یاد ہے کہ تم نے حالتِ صحت میں کوئی نامناسب دعا مانگی ہو ؟ انہوں نے عرض کیا  : مجھے کچھ  یاد نہیں ، کہ کیا دعا کی تھی ۔
                      
تھوڑے ہی وقفے کے بعد حضور اکرم ﷺ کی برکت سے ان کو وہ دعا یاد آ گئی۔ صحابی نے عرض کی کہ میں نے اپنے اعمال کی کوتاہیوں اور خطاؤں کے پیشِ نظر یہ دعا کی تھی کہ اے اللہ ! وہ عذاب جو آخرت میں تو مجھے دے گا وہ مجھے اس  دنیا میں دے دے ، تاکہ میں آخرت کے عذاب سے فارغ ہو جاؤں۔
                    یہ دعا میں نے ایک بار مانگی۔ پھر میں  بیمار  ہو گیا اور  مجھے ایسی شدید بیماری نے گھیر لیا کہ میری جان اس تکلیف سے بے چین رہتی ہے ۔ حالت صحت میں میرے جو  عبادت ، ذکر الٰہی اور اوراد و وظائف معمولات تھے انہیں  کرنے سے بھی عاجز  ہو گیا ہوں ۔ برے بھلے اپنے بیگانے سب بھول گئے اب اگر آپ ﷺ کا چہرۂِ مبارک  نہ دیکھتا تو بس میرا کام تمام ہو چکا تھا۔ آپ ﷺکے لطف و کرم اور غم خواری نے مجھ کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
                     
رسول اللہ ﷺنے یہ سن کر ناراضگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ  آئندہ ایسی نامناسب دعا مت کرنا، یہ آدابِ بندگی کے خلاف ہے، کہ انسان اپنے مولی سے بلاوجہ عذاب طلب کرے۔ انسان تو ایک کمزور چیونٹی کی مانند ہے اس میں یہ طاقت کہاں ہے  کہ اتنی آزمائش اٹھا سکے۔
              
صحابی نے عرض کی  حضور  (ﷺ) میں توبہ کرتا ہوں  کہ آئندہ کبھی ایسی بات زبان پر لاؤں۔ میرے ماں باپ قربان آپ ﷺ اب آئندہ کے لئے میری رہنمائی فرما دیں   ۔
آپ ﷺ نے نصیحت فرمائی ( کہ یہ دعا مانگا کرو  ) : اے اللہ ہمیں  دنیا میں بھی  بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی  بھلائی عطا فرما۔       

(حکایات رومی ؛ ص : 59 ملخصاً)



Thursday, 14 September 2017

بادشاہ نے بڑھیا کی جھونپڑی توڑ دی پھر اللہ نے اس پر ایسا عذاب نازل کیا کہ آپ بھی کان پکڑ لیں گے۔۔۔۔



 کسی ملک میں ایک ظالم ومغروربادشاہ رہا کر تا تھا ۔ اس نے ایک عظیم الشان محل بنوایا اور اس کی تعمیر پرکافی مال خرچ کیا ، جب تعمیر مکمل ہوچکی تو اس نے ارادہ کیا کہ میں سارے محل کا دورہ کروں اوردیکھوں کہ یہ میری خواہش کے مطابق بنا ہے یا نہیں ۔
چنانچہ با دشاہ نے اپنے چند سپاہیوں کو ساتھ لیا اور محل کو دیکھنے چل پڑا۔ا ندر سے دیکھنے کے بعد اس نے محل کے بیرونی حصوں کو دیکھنا شروع کیا اور محل کے اردگرد گرد چکر لگانے لگا ۔ایک جگہ پہنچ کر وہ رک گیا اور ایک جھونپڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا: ''یہ ہمارے محل کے ساتھ جھونپڑی کس نے بنائی ہے ؟'' سپاہیوں نے جواب دیا: چند روزسے یہاں ایک مسلمان بوڑھی عورت آئی ہے ، اس نے یہ جھونپڑی بنائی ہے اوروہ اس میں اللہ عزوجل کی عبادت کرتی ہے۔   
  جب بادشاہ نے یہ سنا تو بڑے غرور بھرے انداز میں بولا:'' اس غریب بڑھیاکویہ جرأت کیسے ہوئی کہ ہمارے محل کے قریب جھونپڑی بنائے ، اس جھونپڑی کو فوراً گرا دو ۔'' حکم پاتے ہی سپاہی جھونپڑی کی طر ف بڑھے،بڑھیا اس وقت وہاں موجود نہ تھی ۔ سپاہیوں نےکچھ ہی دیر  میں اس غریب بڑھیا کی جھونپڑی کواکھاڑ  پھینکا۔ بادشاہ جھونپڑی گروانے کے بعد اپنے دوستوں کے ہمراہ اپنے نئے محل میں چلا گیا ۔
    جب بڑھیا واپس آئی تو اپنی ٹوٹی ہوئی جھونپڑی کو دیکھ کر بڑی پریشان ہوئی اور لوگو ں سے پوچھا :'' میری جھونپڑی کس نے گرائی ہے ۔'' لوگو ں نے بتا یا :'' ابھی کچھ دیر قبل بادشاہ آیا تھا، اسی نے تمہاری جھونپڑی گروائی ہے ۔''
   یہ سن کر بڑھیا بہت غمگین ہوئی اور آسمان کی طر ف نظر اٹھا کر اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کرنے لگی : ''اے میرے پاک پروردگار !جس وقت میری جھونپڑی توڑی جارہی تھی، میں موجود نہ تھی لیکن میرے رحیم وکریم پرودگار! تُو تو ہر چیز دیکھتا ہے، تیری قدرت تو ہر شئے کو محیط ہے ، میرے مولیٰ !تیرے ہوتے ہوئے تیری ایک عاجز بندی کی جھونپڑی توڑدی گئی '' ۔    
  اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اس بڑھیاکی دعا مقبول ہوئی ۔ اللہ عزوجل نے حضرت سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ اس پورے محل کو بادشاہ اور اس کے سپاہیوں سمیت تباہ وبرباد کر دو ۔'' حکم پاتے ہی حضرت سیدنا جبرائیل علیہ السلام زمین پر تشریف لائے اور سارے محل کو اس ظالم بادشاہ اور اس کے سپاہیوں سمیت زمین بوس کر دیا۔
(عیون الحکایات : ج؛  ۱  ص ؛  297 تا 298  حکایت ؛ 140 مطبوعہ مکتبہ المدینہ )
    یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ظالم کو اس کے ظلم کا بدلہ ضرور دیا جاتا ہے۔ مظلوم کی دعا بارگاہ خدا و ندی میں ضرور قبول ہوتی ہے ۔ اللہ عزوجل ہمیں ظالموں کے ظلم سے محفوظ رکھے اور ہماری وجہ سے کسی مسلمان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔۔۔ آمین۔