Tuesday, February 20, 2018

سیدنا فاروقِ اعظم رضي اللہ عنہ کا احساسِ ذمہ داری


ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرتِ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کے وقت مدینہ منورہ کے مقدّس گلی  کُوچوں میں مدَنی دورہ فرمارہے تھے۔ اِس دوران آپ نے دیکھا کہ ایک عورت اپنے گھر میں چولہے پر دیگچی چڑھائے بیٹھی ہے اور اس کے بچے اردگرد بیٹھے رورہے ہیں ۔

حضرتِ سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس عورت سے دریافت فرمایا،'' یہ بچے کیوں رورہے ہیں؟''اس عورت نے عرض کی ،''یہ بھوک کی وجہ سے رورہے ہیں۔'' آپ نے پوچھا،'' اس دیگچی میں کیا ہے؟''وہ بولی،'' میں نے ان بچوں کو بہلانے کے لئے اس میں پانی بھر کر چڑھادیا ہے تاکہ بچے یہ سمجھیں کہ اس میں کچھ پک رہا ہے اور انتظار کر تے کر تے سوجائیں۔''

یہ سن کر حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے قرار ہوگئے اورفوراًواپس لوٹے۔آپ نے ایک بڑی سی بوری میں آٹا ،گھی ،چربی ،چھوہارے ، کپڑے اور روپے منہ تک بھر لئے اور اپنے غلام اسلم سے ارشاد فرمایا ،''اسلم! یہ بوری ہماری پیٹھ پر لاد' دو ۔''انہوں نے عرض کی ،''اے امیر المؤمنین !اسے میں اپنی پیٹھ پر اٹھا لیتا ہوں۔''تو آپ نے ارشاد فرمایا،'' نہیں! اسے میں ہی اٹھاؤں گا ـکیونکہ اس کا سوال آخرت میں مجھ ہی سے ہو نا ہے ۔''
پھر وہ بوری اپنی پشت مبارک پر اٹھا کر اس عورت کے گھر لے گئے اور اس دیگچی میں آٹا ،چربی اور چھوہارے ڈال کر اسے چولہے پر چڑھایا اور کھانا تیار کرنے لگے۔ جب کھانا تیار ہوگیا تو اس عورت کے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے پیٹ بھر کر کھانا کھلایا۔ اس کے بعد باہر صحن میں تشریف لے آئے اور ان بچوں کے سامنے اس انداز میں بیٹھ گئے جیسے کوئی جانور بیٹھتا ہے ۔

 آپ کے غلام اسلم کا بیان ہے کہ میں آپ کے رعب کی وجہ سے کچھ نہ کہہ سکا۔ آپ کافی دیر یونہی بیٹھے رہے یہاں تک کہ بچے آپ کے ساتھ ہنسنے کھیلنے لگے۔جب آپ رضی اللہ عنہ وہاں سے واپس تشریف لارہے تھے تو اپنے غلام سے دریافت فرمانے لگے ،''تم جانتے ہو کہ میں ان بچوں کے ساتھ اس طرح کیوں بیٹھا تھا؟''غلام نے عرض کی،'' نہیں !'' تو ارشاد فرمایا ، جب میں نے انہیں روتا ہوا دیکھا تو مجھے یہ گوارا نہ ہوا کہ انہیں یونہی چھوڑ کر آجاؤں،لہذا! جب بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ طاری ہوئی تو میرا 
دل شاد ہوگیا ۔

(کنزالعمال ، کتاب الفضائل ، باب فضل الصحابۃ ، ج۱۲، ص ۴۵۶، رقم  : ۳۵۹۷۳)

(  منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی) 




Monday, February 19, 2018

بھائی چارے کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں



حضور محسنِ انسانیت  ﷺ نے فرمایا :۔

'' ایک شخص اپنے ایک دینی بھائی سے ملاقات کے لئے گیا تو اﷲ (عزوجل) نے اس کے راستے میں ایک فرشتہ بٹھا دیا' اس نے پوچھا کہاں جارہے ہو ؟ اس نے جواب دیا فلاں بھائی سے ملاقات کے لئے جارہا ہوں' اس نے پوچھا اس سے کوئی کام ہے اس نے جواب دیا نہیں' فرشتے نے پوچھا تمہارے درمیان کوئی رشتہ داری ہے ؟ اس نے کہا نہیں' پوچھا اس نے تم پر کوئی احسان کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا نہیں۔ اس نے پوچھا تو پھر کیوں اس سے ملاقات کررہے ہو؟ اس نے کہا میں اﷲ (عزوجل) کے لئے اس سے محبت کرتا ہوں۔ فرشتے نے کہا اﷲ (عزوجل) نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے اور وہ تمہیں مطلع کرتا ہے کہ وہ (اﷲ عزوجل) تم سے محبت کرتا ہے اور اس نے تمہارے لئے جنت واجب کردی ہے''۔
  (صحیح مسلم جلد ۲ ص ۳۱۷ کتاب البر)

نبی اکرم شاہ بنی آدم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا'' جب دو آدمی آپس میں اﷲ (عزوجل) کے لئے محبت کرتے ہیں تو ان میں سے جو شخص دوسرے سے زیادہ محبت کرتا ہے وہ اﷲ (عزوجل) کو زیادہ محبوب ہوتا ہے۔''
(المستدرک للحاکم جلد ۴ ص ۱۷۱ کتاب البروالصلۃ)

اسی طرح رحمت عالمیا ن سرور ذیشان  ﷺ نے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:ـ
''اﷲ (عزوجل) ارشاد فرماتا ہے کہ میری محبت ان لوگوں کے لئے ثابت ہوگئی جو میرے لئے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں' میری محبت ان لوگوں کے لئے ثابت ہوگئی جو میرے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں' میری محبت ان لوگوں کے لئے ثابت ہوگئی جو میرے لئے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں اور میری محبت ان لوگوں کے لئے ثابت ہوگئی جو میرے لئے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں''۔ 

  (مسند امام احمد بن حنبل جلد۵ ص ۳۲۸ مرویات عبادہ بن سمات)

رحمت عالمیا ن سرور ذیشان  ﷺ نے مزید ایک اور مقام پر ارشادفرمایا:

''اﷲ (عزوجل) قیامت کے دن فرمائے گا وہ لوگ کہاں ہیں جو میرے جلال کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں آج میں ان کو اپنے سائے میں جگہ دوں گا جب کہ میرے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں''۔

(السنن الکبریٰ للبیہقی جلد ۱۰ ص ۲۳۳ کتاب الشہادات)

ایک جگہ مزید ارشاد  فرمایا:

''جو شخص اﷲ (عزوجل) کی رضا کی خاطر کسی دوسرے شخص سے اس کی ملاقات کا شوق اور رغبت کرتے ہوئے اس سے ملاقات کرتا ہے تو اس کے پیچھے سے ایک فرشتہ آواز دیتا ہے کہ تو پاک ہوا' تیرا چلنا پاک ہے اور تیرے لئے پاکیزہ جنت ہے۔ ''

(جامع ترمذی ص ۲۹۴ ابواب البر)


اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اللہ تعالٰی کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔ آمین ۔

(  منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)



ماں باپ کے چند حقوق


اپنے والدین کا احترام دنیاوآخرت میں کامیابی کے بہترین ذریعہ ہے۔آئیے اس حوالے سے کچھ اہم باتیں سیکھتے ہیں

(۱)خبردار خبردار ہرگز ہرگز اپنے کسی قول و فعل سے ماں باپ کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ دیں۔

(۲)اپنی ہر بات اور اپنے ہر عمل سے ماں باپ کی تعظیم و تکریم کرے اور ہمیشہ ان کی عزت و حرمت کا خیال رکھے۔

(۳)ہر جائز کام میں ماں باپ کے حکم کو مانے۔

(۴)اگر ماں باپ کو کوئی بھی حاجت ہو تو جان و مال سے انکی اس حاجت کو پورا کرنے کی کوشش کرے ۔

(۵)اگر ماں باپ اپنی ضرورت سے اولاد کے مال وسامان میں سے کوئی چیز لے لیں تو خبردار خبردار ہر گز ہر گز برا نہ مانیں۔ نہ اظہار ِناراضی کریں۔ بلکہ یہ سمجھیں کہ میں اورمیرا مال سب ماں باپ ہی کا ہے  ۔

(۶)ماں باپ کا انتقال ہوجائے تو ان کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے رہیں  اور فاتحہ دلا کر ان کی ارواح کو ایصال ثواب کرتے رہیں۔

(۷)ماں باپ کے دوستوں اور ان کے ملنے جلنے والوں کے ساتھ بھلائی اور اچھا برتاؤکرتے رہیں۔

(۸)ماں باپ کے ذمہ جو قرض ہو اس کو ادا کریں ، جن کاموں کی وہ وصیت کر گئے ہوں۔ ان کو پورا کریں۔

(۹)جن کاموں سے زندگی میں ماں باپ کو تکلیف ہوا کرتی تھی ان کی وفات کے بعد بھی ان کاموں کو نہ کریں کہ اس سے انکی روحوں کو تکلیف پہنچے گی۔

(۱۰) ماں باپ کی قبروں کی زیارت کے لئے بھی جایاکریں۔  فاتحہ پڑھیں۔

یاد رکھیے کہ  ۔۔۔۔ دادا' دادی'نانا'نانی'چچا' پھوپھی' ماموں'خالہ وغیرہ کے  بھی حقوق بہت زیادہ ہیں ،یوں ہی بڑے بھائی کا حق بھی باپ ہی جیسا ہے چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ:۔

’’ بڑے بھائی کا حق چھوٹے بھائی پر ایسا ہے جیسا کہ باپ کا حق بیٹے پر ہے۔‘‘

(شعب الایمان للبیھقی ،رقم ۷۹۲۹، ج۶، ص۲۱۰)

(  منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)





چھوٹی چیزوں کو نظر انداز نہ کیجئے ورنہ



:ـ چھوٹے چھوٹے سوراخوں سے
بڑے بڑے جہاز ڈوب جاتے ہیں
:ـ چھوٹی چھوٹی غلط فہمیاں
بڑے بڑے مضبوط تعلقات کو کھا جاتی ہیں
:ـ چھوٹے چھوٹے شگاف
بڑے بڑے سیلابوں کا سبب بن جاتے ہیں
:ـ چھوٹی چھوٹی سی بیماریاں
بڑے بڑے امراض تک لے جاتی ہیں
:ـ چھوٹے چھوٹے گناہ
 بڑے بڑے گناہوں کا سبب بن جاتے ہیں
:ـ چھوٹی چھوٹی فضول باتیں
سارے ایمان کو خسارے میں ڈال سکتی ہیں۔

(  منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)



Sunday, February 18, 2018

پیارے آقا ﷺ ان رنگوں کو بھی استعمال فرماتے تھے



 پیارے آقا نے مختلف اوقات میں مختلف رنگوں کے عمامے زیبِ سر فرمایا کرتے تھے۔ جن میں سے کچھ کا ذکر کتب احادیث و سیر میں موجود ہے ۔آئیے اس حوالے سے مفید معلومات آپ بھی پڑھئے اور دوسروں تک پہنچائیے۔
       
الفت ہے مجھے گیسوئے خَمدارِ نبی سے    اَبرو و پَلک آنکھ سے رُخسارِنبی سے
پَیراہَن و چادر سے عصا سے ہے مَحَبَّت   نَعلَیْنِ شَرِیفَین سے دَستارِنبی سے

سیاہ عمامہ مبارک

:ـ ایک موقع پر تو سیدنا جبریلِ امین علیہ السلام نے پیارے آقا کو سیاہ رنگ کا عمامہ شریف باندھا بھی ہے۔
:ـ سب سے آخر ی خطبہ دیتے وقت سرِ اقدس پر چکنی پٹی یا سیاہ رنگ کا عمامہ شریف سجا ہوا تھا۔
:ـ فتحِ مکہ کے دن  خاکستری مائل بسیاہی رنگ  کا عمامہ پہنا ۔ 
:ـ فتحِ مکہ کے دن نبیٔ کریم اور حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہ اپنے سر پر سیاہ عمامہ باندھے ہوئے تھے۔ (الشریعۃ للآجری، کتاب فضائل العباس بن عبدالمطلب الخ ، باب ذکر تعظیم قدر العباس الخ ، ۵/۲۲۵۱، رقم:۱۷۳۲)
 :ـ غزوۂ خندق کے روز نبیٔ کریم   کا عمامہ مبارک سیاہ رنگ کا تھا۔ (شعب الایمان ، باب فی الملابس الخ ، فصل فی العمائم، ۵/۱۷۳، حدیث:۶۲۴۷)
:ـ پیارے آقا   کا ایک سیاہ عمامہ شریف تھا جسے آپ عیدین پر پہنا کرتے اور شملہ پیچھے لٹکایا کرتے تھے۔ (الکامل فی ضعفاء الرجال ، من اسمہ محمد ، محمد بن عبیداللہ الخ، ۷/۲۴۹)
:ـ  حدیبیہ کے دن رسول اللہ   سیاہ عمامہ شریف پہنے ہوئے تھے جس پر کچھ غبار (برکتیں لوٹ رہا) تھا۔  (اخبار اصبہان، باب الزا، ۱/۴۳۱)
:ـ ایک مرتبہ قحط سالی کے وقت مدینہ منورہ سے بقیعِ غَرقَد (جَنَّتُ البَقِیع) کی طرف تشریف لے گئے، اس وقت آپ سیاہ عمامہ پہنے ہوئے تھے جس کا ایک شملہ اپنے سامنے اور دوسرا اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکا ئے ہوئے تھے۔ (کنزالعمال ، کتاب الصلاۃ ، الباب السابع فی صلاۃ النفل، صلاۃ الاستسقاء ، الجز۸، ۴/۲۰۳، حدیث:۲۳۵۴۱)
         
حَرقانی عمامہ مبارک
        نبی ٔ پاک   کے مختلف رنگ کے عماموں میں ایک حرقانی رنگ کا عمامہ شریف بھی تھا۔ یہ خالص سیاہ رنگ کا نہیں تھا بلکہ جیسے کسی چیز کو آگ سے جلا دیا جائے تو اس کا رنگ قدرے سیاہی مائل ہو جاتا ہے ۔ آپ  کا یہ عمامہ مبارک بھی ایسا ہی سیاہ تھا جیسے آگ سے جلی ہوئی شے کا رنگ ہوتا ہے۔  (نسائی، کتاب الزینۃ، لبس العمائم الحرقانیۃ، ۱/۸۴۶، حدیث: ۵۳۵۳)
اوراکثر دورانِ سفر سیاہ حرقانی رنگ کاعمامہ شریف پہنتے تھے۔ (الحاوی للفتاوی ، کتاب الصلوۃ، باب اللباس، ۱/۸۳)

زرد عمامہ مبارک


 آپ کا زرد عمامہ شریف باندھنا بھی کئی احادیث سے ثابت ہے، مرضِ وصال آپ کے سرمبارک پر عمامہ زرد تھا۔ (الشمائل المحمدیۃ، باب ما جاء فی إتکاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ص۹۳، حدیث:۱۲۹)
بدر کے میدان میں فرشتوں کے عمامے زرد رنگ کے تھے پھر نبی کریم بھی زرد عمامہ شریف زیبِ سر کیے تشریف  لائے ۔ (تاریخ ابن عساکر، ذکرمن اسمہ زبیر ، ۱۸/۳۵۴)
حضرت سیّدنا عبداللہ ابن عمررضی اللہ عنہما اپنی داڑھی مبارک کو زرد رنگ سے رنگتے تھے یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کے کپڑوں میں بھی زرد رنگ لگ جایا کرتا تھا۔ آپ سے پوچھا گیا آپ زرد رنگ سے  کیوں رنگتے ہیں ، تو  آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: میں نے پیارے آقا کو زرد رنگ سے رنگتے دیکھا ہے اور آپ کو اس سے زیادہ اور کوئی رنگ محبوب نہ تھا آپ پورے لباس کو اس میں رنگتے حتی کہ عمامہ شریف کو بھی اسی رنگ میں رنگا کرتے تھے۔ (ابوداؤد ، کتاب اللباس ، باب فی المصبوغ بالصفرۃ ، ۴/۷۳، حدیث:۴۰۶۴) 

زعفرانی عمامہ مبارک

حضرت سیّدنا عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے نبی ٔ کریم کو زعفران سے رنگے ہوئے دو کپڑے’’ چادر اور عمامہ ‘‘پہنے ہوئے دیکھا۔ (مستدرک حاکم، ذکر عبداللہ بن جعفر الخ، سخاوۃ عبداللہ بن جعفر، ۴/۷۳۹، حدیث:۶۴۷۴)
حضرت سیّدنا یحییٰ بن عبداللہ بن مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِق  فرماتے ہیں : نبیٔ کریم اپنے کپڑوں کے ساتھ عمامے کو بھی زعفران سے رنگا کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس، باب فی الثیاب الصفر للرجال، ۱۲/۴۷۶، حدیث:۲۵۲۴۳)
حضرت سیّدنا عبداللہ بن جَعفَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : میں نے رسولِ کریم  کی زیارت کی تو میں نے دیکھا کہ آپ کی چادر اور عمامہ شریف دونوں زعفران سے رنگے ہوئے تھے۔ (مسند ابی یعلٰی، مسند عبد اللہ بن جعفر الہاشمی، ۶/۳۴، حدیث:۶۷۵۶)

سفید عمامہ مبارک
حضرت سیّدنا ابو سعید خُدرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ درِدولت سے باہر تشریف لائے جب کہ لوگ زیارت کے لیے جمع تھے اور آپ (کی طبیعت مبارک)  کے متعلق پوچھ رہے تھے، پس آپ  کپڑا لپیٹے یوں تشریف لائے کہ آپ کی چادر مبارک کے دونوں کنارے آپ کے مبارک کندھوں سے لٹک رہے تھے اور سرِاقدس پر سفید عمامہ شریف سجا رکھا تھا۔ 
(طبقات ابن سعد، ذکر ما قال رسول اللہ ﷺ فی مرضہ الذی مات فیہ للانصار، ۲/ ۱۹۳ )


دھاری دارسرخ عمامہ مبارک

حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ  کو اس طرح وضو فرماتے دیکھا ، آپ نے قِطری ( سرخ دھاری دار کھردرہ ) عمامہ شریف باندھ رکھا تھا ۔

(ابوداؤد ، کتاب الطہارۃ، باب المسح علی العمامۃ ، ۱/۸۲، حدیث: ۱۴۷)

سبز عمامہ مبارک

سبز عمامہ شریف بھی رسول اکرم سے پہننا ثابت ہے چنانچہ  
علّامہ شیخ عبدالحق محدّث دہلوی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں ، سرکارِ کا مبارک عمامہ اکثر سفید اور کبھی سیاہ اور بعض اوقات سبز ہوتا۔ (کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ص ۳۸)
حضرت عبد اللہ  ابن عباس رَضِی اللہ تَعالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے: ’’ بَدَر کے روز فرشتوں کی نشانی سفید عمامے اور بروزِ حُنین سبز سبز عمامے تھی‘‘۔  (تفسیر خازن، پ ۹، الانفال، تحت الآیۃ۹، ۲/۱۸۲)
حضرت علّامہ عَبدُالغَنِی بِن اِسمَاعِیل نابُلُسِی حَنَفِی عَلَیہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اور حضرتِ علّامہ محمد عبد  الرَّءُوف مناوی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ (قربِِ قیامت ) جب حضرت سیِّدنا عیسٰی زمین پر تشریف لائیں گے تو آپ کے سرِ اقدس پر سبزسبز عمامہ شریف ہو گا۔ (الحدیقۃ الندیۃ، ۱/۲۷۳، فیض القدیر، حرف الدال ، فصل فی المحلی بال من ھذا الحرف، ۳/۷۱۸، تحت الحدیث:۴۲۵۰، عقدالدرر فی اخبار المنتظر، الفصل الثانی فیما جاء من الآثار الدالۃ علی خروج الدجال الخ، ص۳۴۲)  
صحابۂ کرام رِضوَانُ اللہِ تَعالٰی عَلَیہِم اَجمَعِین سے بھی سبز عمامہ شریف کا ثبوت ملتا ہے چنانچہ
حضرت سیّدنا سلیمان بن ابوعبداللہ تابعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :میں نے دیکھا کہ مہاجرین اولین (صحابہ ) سیاہ، سفید، سرخ، سبزاور زرد رنگ کے سوُتی عمامے باندھا کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب اللباس ، باب من کان یعتم بکور واحد ، ۱۲/۵۴۵، حدیث: ۲۵۴۸۹ واللفظ لہ، مسند اسحاق بن راہویہ، ما یروی عن الاسود بن یزید الخ، ۳/۸۸۲، رقم: ۱۵۵۶)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ  ہمیں حضور اکرم  کی ہر سنت کو اپنانے کی توفیق عطاء فرمائے ۔۔۔ آمین
(  منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)



Friday, February 16, 2018

قبر کی تنہائی اور رحمتِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ


 منقول ہے: ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا لطف وکرم بندے پر اس وقت بہت زیادہ ہوتاہے جب اس کو قبر میں اُتارا جاتا ہے اورسخت مِٹی اس کے نرم و نازک رُخسار پر رکھ دی جاتی ہے اور اس کے قرب میں رہنے والے، محبت کرنے والے جب بے وفائی کر جاتے ہیں ۔ جب میت کواوّلاً تختۂ غسل پر رکھ کر اس کا لباس اُتار دیا جاتا ہے تو وہ اپنے احباب سے مایوس ہو کر پکارتاہے : ''ہائے بربادی و رسوائی !''اس کی ندا سوائے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کوئی نہیں سنتا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: ''میرے بندے !میں نے دنیامیں تیری پردہ پوشی کی آخرت میں بھی پردہ پوشی کروں گا۔''
جب میت کو چارپائی پر رکھ کر گھر سے سوئے قبرستان چل پڑتے ہیں تو وہ چلاتا ہے: ہائے تنہائی !''اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتاہے: ''اے میرے بندے !اگر تو آج تنہا ہے تو میں ہمیشہ تیرے قریب ہوں۔ خوف نہ رکھ میں تیرے گناہ مٹا دوں گا، قبر میں تیری تنہائی پر رحم کروں گا،میں تیری تنہائی میں تیرا 
مونِس ہوں ۔''

جب لوگ اس کو لحد میں اتار کر اس کے نرم و نازک رخسار کو سخت مٹی پر رکھ کر پلٹ جاتے ہیں تو وہ چیختاہے:''ہائے تنہائی!'' اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتاہے:''اے میرے بندے!کیا تجھے وحشت ہوتی ہے جبکہ میں تیرا انيس ہوں، کیا تو اکیلے پن کی شکایت کرتا ہے جبکہ میں تیرے قریب ہوں ۔ اے میرے بندے !کیا میں تیرا رب نہیں ہوں؟'' عرض کریگا :''کیوں نہیں۔ اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ !۔''اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا:''اے میرے بندے !کیسے تو نے اس چیز کو چھوڑ دیا جس کا میں نے تجھے حکم دیا تھا؟اور کیسے اس کا مرتکب ہوا جس سے میں نے تجھے منع کیا تھا ؟کیا تجھے معلوم نہ تھاکہ تجھے میری طرف پلٹنا ہے؟ تیرے اعمال میرے سامنے پیش ہوں گے؟کیا تو نے میرے عہد کو بھلا دیا تھا ؟یا تو میرے وعدے اور وعید کا منکر تھا؟اب تیرے دوستوں نے تجھے تنہا چھوڑ دیا ،مال تیرے ہاتھ سے چھوٹ گیا ،مال نے تیرے مقصد میں تجھے کوئی نفع نہ دیا ،نہ دوستوں نے تجھے تیرے برے اعمال سے بچایا ۔اب تیرے پاس کیاعذر ہے؟

    بندہ عرض کریگا:''اے میرے پروردگا رعَزَّوَجَلَّ !میرا دل مال ودولت کی محبت میں گرفتار ہوا، ان دونوں نے مجھے گناہوں پر آمادہ کیا، اب میں تیرے جوار رحمت میں ہوں اور تیرااس رات مہمان ہوں تو مجھے اپنی آگ سے عذاب نہ دینا ،اگر تو ہی مجھ پر رحم نہیں فرمائے گا تو پھر کون رحم کریگا؟''اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا: ''اے میرے بندے! لوگوں نے تجھے چھوڑ دیا اور اگر وہ تیرے پاس رہتے تو بھی تجھے ان سے نفع نہ ہوتا، انہوں نے تجھے میرے دروازے کی طرف متوجہ کر دیا اور میرے رحم و کرم پر چھوڑ کر گئے ہیں ۔اے میرے بندے!ٹھنڈا سانس لے اور آنکھوں کو بھی ٹھنڈا کر لے کہ تو آج رات میرا مہمان ہے اور کریم اپنے مہمان کو محروم نہیں چھوڑتا ۔ اے فرشتو! احسن طریقے سے اس کی مہمان نوازی کرو اور اس پر اس کے گھر والوں اورقرابت داروں سے زیادہ مہربان ہوجاؤ۔ ‘‘

    حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، حضور سید الْمبلِغین ﷺ کا فرمانِ مغفرت نشان ہے:''اگر تمہاری خطائیں آسمان تک پہنچ جائیں پھر تم توبہ کرو تو ضرور اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری توبہ قبول فرما لے گا۔
   
(سنن ابن ماجۃ ، ابواب الزھد،الحدیث۴۲۴۸،ص۳۵ ۲۷)


)حکایتیں اور نصیحتیں ص 640۔641)

(  منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)(



سات خوش نصیب

 
مکی مدنی سرکار آقا ئے دو جہاں  ﷺ نے ارشاد فرمایا:۔

''سات قسم کے آدمیوں کو اس دن اﷲ (عزوجل) سایہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔

(۱) انصاف کرنے والا حکمران

(۲)وہ نوجوان جو اﷲ(عزوجل)کی فرمانبرداری میں پروان چڑھا

(۳)وہ شخص جو مسجد سے نکلے تو واپسی تک اس کا دل مسجد ہی میں لگا رہے

(۴)وہ دو آدمی جو اﷲ (عزوجل) کے لئے محبت کرتے ہیں اسی پر اکٹھے ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں

(۵)وہ شخص جو علیحدگی میں اﷲ (عزوجل) کو یاد کرتا ہے تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں

(۶)وہ مرد جسے کوئی خوبصورت اور خاندانی عورت (گناہ کی طرف) بلاتی ہے تو وہ کہتا ہے میں اﷲ (عزوجل) سے ڈرتا ہوں

(۷)اور وہ آدمی جو صدقہ دیتا ہے تو اسے اس طرح چھپا کر دیتا ہے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے''۔

(صحیح بخاری جلد اول ص ۱۹۱ کتاب الزکوٰۃ)

(  منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)