Tuesday, 25 July 2017

قبر سے چلانے کی آوازیں




Monday, 17 July 2017

Kia Kamal Insan Hoga?

ابوسعید ابوالخیر سے کسی نے کہا؛
کیا کمال کا انسان ہو گا وہ جو ہوا میں اُڑ سکے۔

ابوسعید نے جواب دیا؛
یہ کونسی بڑی بات ہے، یہ کام تو مکّھی بھی کر سکتی ہے۔

اور اگر کوئی شخص پانی پر چل سکے اُس کے بارے میں آپ کا کیا فرمانا ہے؟
یہ بھی کوئی خاص بات نہیں ہے کیونکہ لکڑی کا ٹکڑا بھی سطحِ آب پر تیر سکتا ہے۔

تو پھر آپ کے خیال میں کمال کیا ہے؟
میری نظر میں کمال یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان رہو اور کسی کو تمہاری زبان سے تکلیف نہ پہنچے۔
جھوٹ کبھی نہ کہو،کسی کا مذاق مت اُڑاؤ۔
یہ ضروری نہیں کہ کسی کی بری بات یا عادت کو برداشت کیا جائے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی کے بارے میں بن جانے کوئی رائے قائم نہ کریں۔
اگردوسرے کو خوش نہیں کرپارہے تودوسرے کو تکلیف بھی نہ پہنچائیں۔
دوسروں کی اصلاح سے زیادہ ہماری نگاہ اپنے عیوب پر ہو۔
حتّیٰ کہ اگر ہم ایک دوسرے سے محبّت نہ بھی کریں،لیکن اتنا کافی ہے کہ ایک دوسرے کے دشمن نہ ہوں۔
دوسروں کے ساتھ انہیں تکلیف دئیے بغیر امن و سکون کے ساتھ جینا کمال ہے



Mujhay Is Deen Me Shamil Karlo



مریم ایک غیر مسلم لڑکی تھی اور ایک ہسپتال میں بطور ِنرس خدمات انجام دیتی تھی  ۔
اس کی زندگی میں ہسپتال اور  انٹرنیٹ  کے علاوہ  کوئی تیسری چیز نہ تھی ۔
ایک صبح  جب وہ ہسپتال پہنچی تو اسکی ذمہ داری ایک ایسے روم میں لگا دی گئی جہاں  کسی دوسرے ملک سے کوئی بڑی عمر کی مریضہ آئی ہوئی تھی،اس کے ساتھ اسکی بہو اور بیٹا  تھے ، روم میں  پہنچ کر دیکھا تو وہ مسلمان معلوم ہو رہے تھے  ۔اور لوگ بھی مذہبی لگ رہے تھے۔
اس کی  زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی مسلما ن کو اتنی قریب سے دیکھ سکے،اس کے لئے ایک عجیب بات یہ نظر آئی کہ مریضہ کی حالت بگڑتی تواسکےبیٹےکےساتھ ساتھ اسکی بہوبھی پریشان ہوجاتی بلکہ بعض اوقات رونےلگتی  ۔
بیٹا داڑھی والا بہو پردے داراور اس بوڑھی عورت کے لئے دل و جان سے خدمت کرنا ۔اس بوڑھی عورت کی خیریت معلوم کرنے کے لئے  بار بار فون بھی آرہے تھے۔
اسے بڑا تعجب ہوتا تھا کہ یہ لڑکی اپنی ساس کے لیے اس قدر فکر مند ہے جبکہ یہ اس کی ماں بھی نہیں ہے اور ایک ہمارا ماحول ہے کہ ساس تو دور کی بات سگے ماں باپ کو اولڈ ہاوس کے حوالے کردیا جاتا ہے، وہ خود ہے ،جسے اپنی ماں کی خیریت پوچھے ہوئے بھی کئی ماہ گزر چکے ہیں  ۔ اسے مسلمانوں کایہ محبت بھراخاندانی نظام بہت اچھالگا ۔
بوڑھی کو جب  تکلیف بڑھتی تو کچھ پڑھنے  لگتی ،جس سے سکون ملنا شروع ہوجاتا۔
بالآخر اس نے بہو سے ڈرتے ڈرتے اپنے جذبات کا اظہار کرہی دیا،جواب میں بہو نے اپنے بیگ میں سے اسلامی معاشرے کی بہترین تصویر کی عکاسی کرتا ہوا، ایک رسالہ نکال کر اس کے حوالے کیا یعنی  جس کا نام تھا  احترام مسلمThe Respect of a Muslim

رسالہ پڑھا تو بہت حیران ہوئی اور مزید اسلام جاننے کی تمنا میں ایک اسلامی ویب اور اسلامی انگلش چینل دیکھنا شروع کردیایہاں تک  کہ وہ اسلام سے  مزید متأثر ہوتی چلی گئی۔اور پھر ایک وقت آیا کہ اس کے دل اسلام کی شمع روشن ہوگئی یعنی اس نے اسلام قبول کرلیا  ۔
اسلام قبول کرنے کے بعد اس نے سوچا کہ سب سے  پہلے وہ اپنی ماں کو جا کر یہ خوش خبری سنائے  گی چنانچہ وہ خوشی خوشی ماں سے ملنے اس کے گھر پہنچی    ۔۔۔۔۔۔
لیکن یہ کیا وہاں جاکرمعاملہ بالکل الٹ ہو گیا، اس کی ماں نے جیسے ہی یہ سنا کہ اس نے اسلام قبول کرلیا ہے تو نہ صرف سخت ناراضی کا اظہار کیا بلکہ فورًٍٍٍا گھر سے نکل جانے کا بول کر خود اپنے روم میں جاکراندر سے دروازہ بندکر لیا ۔
مریم کی خوشی کے ساتھ ساتھ یہ نئی پریشانی بھی مل گئی ،  وہ کافی مایوس ہوئی ، ایک طرف اسلام جیسا خوبصورت مذہب تو دوسری طرف ماں جیسی ہستی جسے اسلام نے ہی اس کی نظروں میں قدر بخشی تھی، وہ کافی دیر اکیلی بیٹھی سوچتی رہی اور پھر ایک بھرپور فیصلہ کیا کہ وہ اسلام کوکسی صورت نہیں چھوڑے گی بلکہ جس اسلامی اخلاق نے اسے اسلام جیسی نعمت دی ہے انہی اخلاق کے ذریعے وہ اپنی ماں کو بھی دامن اسلام میں لانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔
وقت گزرتا رہا مریم اپنی ماں کو منانے کی ہر ممکن کوشش کرتی رہی  مگر ہر کوشش بے کار ثابت ہوئی ۔اسی تگ و دو  میں کافی وقت بیت گیا، مریم کو بارہا انتہائی  سخت حالات سے بھی گزرنا پڑا مگر وہ چٹان کی طرح  اپنے اراد ے پر قائم رہی  کیونکہ اس کی منزل اپنے اخلاق کے ذریعے ماں کو اسلام قبول کروانا تھا ۔
ایک دن دیگر بہن بھائیوں نے آپس یہ مشورہ کیا کہ ماں کو اب اولڈ ہاءوس میں جمع کروادینا چاہئے ۔ ماں کو جب یہ بات پتہ چلی تو وہ رونے لگی لیکن اس کی ایک نہ سنی گئی سامان پیک ہورہا تھا کہ اچانک مریم بول پڑی ماں یہاں سے نہیں جائے گی۔
تو اسے سنبھالے کون؟ ایک بھائی نے غصہ میں کہا
میں سنبھالوں گی۔مریم نے جھٹ جواب دیا
لیکن ماں والے کمرے کی ہمیں ضرورت بھی ہے۔ایک اور بہن نے کہا
کوئی بات نہیں ۔ماں میرے ساتھ میرے فلیٹ  میں رہ لے گی۔
اور یوں ماں اولڈ ہاوس جاتے جاتے رک گئی ،ماں  سوچ میں پڑ گئی کہ اگر مریم آج  مسلمان نہ ہوتی تو میرا کیا بنتا ؟
اور اس کے دل میں بھی اسلام کی محبت پیدا ہونا شروع ہوگئی، پھر ایک دن  ا چانک مریم کی  ماں کی طبیعت خراب ہوگئی  ، ہسپتال لیجایا گیا  توڈاکٹر نے  بتایا کہ اسے بلڈ کینسر ہے  یہ خبر  اس کی ماں کے لیے کسی بڑے سے بڑے صدمے  سے کم نہ تھی ۔ وہ  دن بدن گھلتی جا رہی تھی  ۔یورپ کے ماحول کے مطابق باقی اولاد،رشتے دار، اپنے کاموں میں مصروف رہتے اور کبھی کبھی اس کا حال بھی پوچھ لیتے  جبکہ مریم پر اسلام کی تعلیم کا ایسا اثر ہوا تھا  کہ وہ ماں کی خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتی تھی بلکہ  جب سےماں کی طبعیت خراب رہنے لگی تھی تب سےاس نے  ہسپتا ل میں بھی وقت کم کردیا سیدھا ماں کے پاس  آجاتی تھی ۔ماں کے سامنے نماز میں اپنی ماں کی ہدایت اور صحت کے لئے اللہ تعالی سے دعائیں بھی مانگتی۔
اب ماں کوبار بار  اپنے وہ  بھیانک سلوک بھی یاد آتے  جو اس نے مریم کے ساتھ روا رکھے تھے  وہ حیران ہوتی کہ اس کے باوجود مریم اس کی اتنی خدمت کرتی ہے اور کبھی  سابقہ حالات کا  گِلہ بھی نہیں کرتی جبکہ اس کا ایک حصہ بھی اگر اپنے کسی اور بچےکے ساتھ کرتی تو نتیجہ یکسر مختلف ہونا تھا۔
ایک دن اس نے ہمت کر کے یہ سب خیالات مریم کو بتائے اور  مریم کا شکریہ ادا کرنے لگی ۔ مریم مسکرا ئی  اور کچھ دیر چپ رہنے کے بعد بولی ۔۔۔۔۔    امی  جوبھی تبدیلی  آپ میرے اندر دیکھ رہی ہیں اس کا سہرامیرے پیارے ،مذہب اسلام کے سر جاتا ہے۔ اس خوبصورت دین کی تعلیمات ہی اتنی  عمدہ ہیں کہ جو ان پر عمل کرنے لگتاہے وہ اپنی ذات کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے بھی اچھا بن جاتا ہے ، وہ اخلاق کا ایک بہترین نمونہ بن جاتا ہے ، وہ بعض اوقات خود تکلیف برداشت کرلے گا لیکن دوسروں کو تکلیف میں رہنے نہیں  دیتا  ، اسکی تعلیمات پر عمل کر کے جو سکون و اطمنان کی دولت حاصل ہوتی ہےوہ کسی اور کام میں حاصل نہیں ہو پاتی ،اسلام چھوٹوں سے محبت اور  بڑوں کے احترام سکھاتا ہے اور اپنے دیگر رشتے داروں اور خصوصا ماں  کی  بہت زیادہ خدمت کا درس دیتا ہے اور۔۔۔۔۔۔۔
رک جاؤ مریم ۔مریم کی گفتگو ابھی جاری تھی کہ ماں نےمریم کی بات کو بیچ میں کاٹتے ہوئے بولا
بیٹا ۔۔بیٹا ۔۔۔ مجھےبھی اس پیارے دین میں شامل کرلو  ۔۔۔۔۔۔۔ ؟
ماں کی آواز کانپ رہی  تھی ، آنسو رواں تھے اور انداز  التجائیہ تھا۔
مریم نےانکاہاتھ فوراً اپنےہاتھ میں لے کر جلدی جلدی کلمہ پڑھانا شروع کردیا۔
اورمریم کےبھی آنسو رواں تھے مگر یہ آنسوخوشی کےتھے کیونکہ وہ بہت لمبےاور تکلیف دہ سفرکےبعدیہاں  تک پہنچی تھی کہ اس کی ماں نےبھی اسلام قبول کرلیاتھا ۔وہ مسلمان ہوچکی تھی ،دونوں ایک دوسرے کے گلے لگے رو رہی تھیں ۔لیکن ان کے دلوں کو جوسکون آج ملا تھا اس کا تصور بھی اس سے قبل انہوں نہ کیا تھا۔
والحمد للہ
عاشقان  رسول یہ ایک فرضی واقعہ ہے ۔لیکن کیا آپ اپنے اخلاق سے حقیقی واقعہ نہیں بناسکتے۔ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو تو ان کے دشمنوں نے بھی صادق و امین کہہ کر پکارا ہے۔پیارے آقاصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خون کے پیاسوں کو معاف کیا ہے۔آئیے آج کے اس دور میں ہم بھی اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے دعوت اسلامی کے مدنی ماحول کے ساتھ وابستہ ہوجائیں ۔



Saturday, 15 July 2017

Mere Huzur Par Salam




Thursday, 13 July 2017

Rehmat e Ilahi



حضرتِ سیِّدُنا با یزیدبسطامی قُدِّسَ سِرُّہُ السّامی کسی جگہ سے گزر رہے تھے، مُلاحظہ فرمایا، ایک بچّہ کیچڑ میں گر گیا ہے اور اس کا بدن اورلباس گندگی میں لتھڑگئے ہیں، لوگ دیکھتے ہوئے گزر جاتے ہیں، کوئی پروا بھی نہیں کرتا! کہیں دُور سے ماں نے دیکھا، دوڑتی ہوئی آئی، دو تھپَّڑ بچے کے لگائے، کپڑے اُتار کر دھوئے ، اُسے غسل دیا ۔
حضرت(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ) کو یہ دیکھ کر وَجد آ گیا اور فرمایا کہ یِہی حال ہمارا اور رَحمتِ الٰہی(عَزَّ وَجَلَّ) کا ہے۔ ہم گناہوں کی دَلدَل میں لِتھَڑ جاتے ہیں، کسی کو کیا پروا! مگر  رحمتِ الٰہی (عَزَّ وَجَلَّ) کا دریا جوش میں آتا ہے ،ہم کو مصیبتوں کے ذَرِیعے دُرُست کیا جاتا ہے اور توبہ و عبادات کے پانی سے غسل دے کر صاف فرما تا ہے۔ (مُعلّمِ تقریر ص
۳۳ ملخصاً ) جب مہربان ماں کچھ سزا دیکر تنبیہ کرسکتی ہے تو ہمارا خالِق و مالک عَزَّ وَجَلَّ اس سے کہیں زیادہ مہربان ہے، بعض اوقات سزا دیکر اِصلاح فرماتا ہے ۔
ربِّ کائنات عَزَّ وَجَلّ َمؤ مِنین و مؤمِنات کو اِمتحانات میں مبتَلاکر کے ان کے سیِّئآت( یعنی گناہ) مٹاتا اور دَرَجات بڑھاتا ہے۔
لہٰذا جب بھی مصیبت آئے پارہ بیس سُوْرَۃُالۡعَنۡکَبُوۡت  کی دوسری آیتِ کریمہ کو ذہن میں لے آیئے:
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتْرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوۡنَ ﴿۲۲۰، العنکبوت ۲)
ترجَمۂ کنزالایمان:
کیا لوگ اس گَھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دئیے جائیں کہ کہیں: ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی ۔



Tuesday, 11 July 2017

Naat | Munajat | Main Makkah Main Phir Aa Giya | میں مکہ میں پھرآگیا یا ...




Monday, 10 July 2017

کیا آپ کو معلوم ہے کہ آسمان والوں کا قبلہ جس کا فرشتے طواف کرتے ہیں وہ کیا ہے؟

آسمانی قبلہ
کیا آپ جانتے ہیں کہ جس  طرح ہم مسلمانوں کاقبلہ،  کعبۃ اللہ مکہ مکرمہ میں ہے اسی طرح  آسمان والوں کا کعبہ جس کا  فرشتے طواف کرتے جس کی زیارت کے لئے  حاضر ہوتے ہیں جی ہاں اس  کا نام بیت المعمور ہے۔بلکہ  جس کعبہ کے رخ پر ہم نماز پڑھتے جس کا حج کرتے یہ بھی سب سے پہلے فرشتوں نے ٹھیک ''بیت المعمور'' کے سامنے اس کے مقابل زمین پر بنایا۔یہ خانہ کعبہ کے عین اوپر ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے ۔
اللہ تبارک و تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے
  وَّالْبَیۡتِ الْمَعْمُوۡرِ ۙ
ترجمہ کنزالایمان :اور بیتِ معمور ۔
پارہ27 سورۃ الطور آیت نمبر52
صدرالافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ  اللہ الہادی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں :بیت المعمور ساتویں آسمان میں عرش کے سامنے کعبہ شریف کے بالکل مقابل ہے ، یہ آسمان والوں کا قبلہ ہے ، ہر روز ستّر ہزار فرشتے اس میں طواف و نماز کے لئے حاضر ہوتے ہیں ، پھر کبھی انہیں لوٹنے کا موقع نہیں ملتاہر روز نئے ستّر ہزار حاضر ہوتے ہیں ۔ حدیثِ معراج میں بصحت ثابت ہوا ہے کہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ساتویں آسمان میں بیت المعمور کو ملاحظہ فرمایا ۔
مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنان فرماتے ہیں:  بیت المعمور فرشتوں کا کعبہ و قبلہ ہے کہ اس طرف رخ کرکے سجدے کرتے ہیں اور اس کی زیارت کرنے باری باری سے آتے ہیں،جو ایک بار کرجاتے ہیں وہ دوبارہ نہیں آتے،یہ زیارت فرشتوں کا حج ہے۔مراۃ جلد 8ص121
بیت المعمور کس چیز کا بنا ہوا ہے ۔
بیت المعمور کے چار ستون ہیں : ایک سرخ یاقوت کا ، دوسرا سبز زبرجد کا تیسرا سفید چاندی کا اور چوتھا سرخ سونے کا ہے۔ بیت المعمور کی عمارت سرخ عقیق کی ہے ۔
پیارے آقا مکی مدنی مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم معراج کی رات اس جگہ بھی تشریف لے گئے تھے جی ہاں معراج کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ساتویں آسمان پر پہنچے تو وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی وہ بیت المعمور سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے جس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں
ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے مسجد اقصی میں تو نبیوں کی امامت فرمائی تھی جب کہ  بیت المعمور میں سارے فرشتوں کونماز پڑھائی لہذا ہمارے آقا ساری خلق کے امام ہیں ۔
بلکہ پیارے آقاصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے معراج کی رات اپنے امتیوں کو ساتھ لے جاکر وہاں نماز ادا فرمائی تھی چنانچہ ،ابن جریروابن ابی حاتم وابویعلٰی وابن مردویہ وبیہقی وابن عساکر حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حدیث طویل معراج میں راوی، حضور اقدس سرورعالم صلی اللہ تعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر میں ساتویں آسمان پر تشریف لے گیا،ناگاہ وہاں ابراہیم خلیل اللہ ملے کہ بیت المعمور سے پیٹھ لگائے تشریف فرماہیں اورناگاہ اپنی امت دوقسم پائی،ایک قسم کے سپید کپڑے ہیں کاغذکی طرح، اوردوسری قسم کا خاکستری لباس۔میں بیت المعمورکے اندر تشریف لے گیااورمیرے ساتھ سپیدپوش بھی گئے، میلے کپڑوں والے روکے گئے مگرہیں وہ بھی خیر وخوبی پر۔پھر میں نے اورمیرے ساتھ کے مسلمانوں نے بیت المعمورمیں نماز پڑھی ۔ پھر میں اورمیرے ساتھ والے باہر آئے۔
(۱؂تاریخ دمشق الکبیر باب ذکر عروجہ الی السماء الخ داراحیاء التراث العربی بیروت۳/۲۹۴)
(دلائل النبوۃ للبیہقی    باب الدلیل علی ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم عرج بہ الی السماء        دارالکتب العلمیۃ بیروت۲/ ۹۴۔۳۹۳)
(الدرالمنثوربحوالہ ابن جریروابن حاتم وغیرہ الخ تحت الآیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/۱۷۲)