Thursday, 25 May 2017

اسلام نے بہن کو کیا دیا؟




اسلام سے پہلے آسمانِ دنیا نے یہ دردناک مَناظِر بھی دیکھےکہ عورت کو بُری طرح ذلیل و رُسوا کیا جاتا ،اسے مارا پیٹا جاتااور اس کے حُقُوق پر غاصِبانہ قبضہ جما لینے کوجرأت مندی و بہادری سمجھا جاتا۔ماں اوربیٹی کی طرح “بہن‘‘ کے  ساتھ بھی کوئی اچھا سُلوک نہیں کیا جاتا تھا۔ ماں باپ کی وِراثت سے تو اسے یوں بے دَخَل کر دیتے جیسے دودھ سے مکّھی کو نکال کر پھینک دیا جاتا ہے۔اِسلام نے ماں اور بیٹی کی طرح ’’بہن‘‘کو بھی وِراثت کا حق دیاکہ “اگر کوئی شخص فوت ہو اور اس کے وُرَثاء میں باپ اور اولاد نہ ہو تو سگی اور باپ شریک بہن کو وِراثت سے مال کا آدھا حصّہ ملے گاجبکہ صرف ایک ہو اور اگر دو یا دو سے زیادہ(بہنیں) ہوں تو دو تہائی حصّہ ملے گا”۔
 (صراط الجنان ،ج2، ص370)
مگرافسوس! آج اسلامی تعلیمات سے دُور بعض لوگ اپنی بہنوں کے حق پر ڈاکہ ڈالتے اور انہیں وِراثت میں ملنے والی جائیداد پر قبضہ جما لیتے ہیں،بلکہ بعض تو یہ دھمکی بھی دیتے ہیں کہ اگر حصّہ لینا ہے تو ہمارا تمہارا تعلّق خَتْم! چنانچہ’’بہن بے چاری” بھائیوں سے اپنے حق کا مُطالَبہ اس خوف  سے نہیں کرتی کہ بھائیوں کو چھوڑنا پڑے گا۔
عورتوں کے سب سے بڑے خیر خواہ،مدینے کے سلطان، رحمت عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بھائیوں کو بہنوں کی عزّتوں کا رَکھوالا یوں بنایا:”جس كى تىن بىٹىاں ىا تىن بہنىں ہوں ىا دو بىٹىاں ىا دو بہنىں اور اس نے ان كے ساتھ حُسنِ سُلُوك كىااور ان كے بارے مىں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتا رہا تو اسےجنّت ملے گى۔
 (ترمذى،ج3، ص367، حدیث:1923)
بلکہ ایک مرتبہ تو چاروں انگلیاں جوڑ کر جنّت میں رفاقت کی خوشخبری سنائی:ایسا شخص جنت میں میرے ساتھ یوں ہو گا۔
(مسند احمد،ج4، ص313، حدیث: 12594)

اسی طرح نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بہنوں پر خَرْچ کو دوزخ سے رُکاوٹ کا یوں سبب بتایا:جس نے اپنی دو بیٹیوں یا دو بہنوں یا دو رشتہ دا ر بچیوں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رضا کے لئے  خرچ کیایہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے انہیں اپنے فضْل سے غنی کر دیاتو وہ اُس کے لئے آگ سے پردہ ہوجائیں گی۔
(مسند احمد ،ج10،ص179، حدیث:26578ملتقطا)

بہنوں سے حُسنِ سُلُوک کی مثالیں:
نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اپنی رَضاعِی (دودھ شریک )بہن حضرت شیماء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنہا کےساتھ یوں حُسنِ سُلُوک فرمایا: (1)اُن کےلئےقیام فرمایا(یعنی کھڑے ہوئے)(سبل الھدی والرشاد،ج5، ص333) (2)اپنی مُبارَک چادر بچھا کر اُس پر بٹھایا اور (3)یہ ارشاد فرمایا: مانگو،تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کرو، تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔
 (دلائل النبوۃ للبیہقی،ج5، ص199،ملتقطاً)
اس مثالی کرم نوازی کے دوران آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی مُبارَک آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، (4)یہ بھی ارشادفرمایا :اگر چاہو تو عزّت و تکریم کے ساتھ ہمارے پاس رہو،(5)واپس جانے لگیں تو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے تین غلام اور ایک لونڈی نیز ایک یا دو اونٹ بھی عطا فرمائے،(6)جب جِعْرَانَہ میں دوبارہ انہی رَضاعی  بہن سے ملاقات ہوئی تو بھیڑ بکریاں بھی عطا فرمائیں۔
(سبل الھدی والرشاد،ج5، ص333 ملتقطا)
ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا اپنی رَضاعی بہن سے حُسْنِ سُلُوک ہر بھائی  کویہ اِحساس دِلانے کے لیے کافی ہےکہ بہنیں کس قَدْر پیاراورحُسنِ سُلُوک کی مستحق ہیں۔ حضرت سیّدُنا جابِر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُما نےمحض اپنی  نو یا سات بہنوں کی دیکھ بھال،اُن کی کنگھی چوٹی اور اچھی تربیت کی خاطر بیوہ عورت سے نکاح کیا۔
(مسلم، ص593،594،حدیث:3641،3638)

اَلْغَرَض عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کی حیثیّت سے جو عزّت وعظمت،مقام ومرتبہ اور اِحتِرام اسلام نے دیا ، دنیا کے کسی قانون ،مَذہب یا تہذیب نے نہیں دیا۔اِسلام کے اس قدْر اِحسانات کے باوُجود کسی”اسلامی بہن“کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اسلامی تعلیمات کو چھوڑ کراپنے لباس،چال ڈھال،بول چال، کھانے پینے،مِلنے ملانےوغیرہ میں غیروں کے دئیے ہوئے انداز اپنائے!لہٰذاہر اسلامی بہن کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی اللہو رسولعَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت میں گزارے۔ اس کے لئے دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوجانا بہت مفید ہے ۔



Wednesday, 24 May 2017

Blessings of Esal-e-Sawab

Blessings of Isal-e-Sawab


Blessings of Esal-e-Sawab

As long as a person lives in this world his parents, siblings, spouse, friends and relatives etc., are with him; they are always with him in every trouble and hard times and try to relieve his sorrow and stress. If he is ill, they inquire after his health, but when the same person is buried in the narrow and dark grave, neither his parents, nor his siblings, nor family members and friends and relatives are with him, but rather he is alone in the grave. So the deceased person knows better whatever happens to him after he is buried in the grave.
It is stated in Ayah 10 of Surah Al-Hashr, part 28:
وَ ا لَّذِیۡنَ جَآ ءُ وۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ہِمۡ یَقُوۡ لُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَ لِاِ خۡوَا نِنَا الَّذِیۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِیۡمَانِ
Translation from Kanz-ul-Iman: And those who came after them make the plea: O our Lord! Forgive us and our brothers who preceded us in faith.
Talking about the reality of the grave in a blessed Hadees, the Beloved Rasool صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم has said, اَلْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، اَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّار Undoubtedly the grave is either a garden from the gardens of Paradise or a ditch from the ditches of Hell.

Continue Reading





Friday, 19 May 2017

کریلا اور اُس کے فوائد


کریلاایک مفید سبزی ہے،عموماً گرم علاقوں میں پیدا ہوتی ہے، کدوشریف کی طرح اِس کی بیل ہوتی ہے، مزاج گرم و خشک ہے، اِسے قیمہ کریلے، بھرے ہوئے کریلے، دال کریلے، کریلے گوشت کے طور پر پکایا جاتا ہے، بعض لوگ اِس کا اچار بھی بناتے ہیں اور اس کا سالن بھی بنایا جاتا ہے ، کریلے کی کڑواہٹ اِس کی خصوصیت ہے، اِسے نمک وغیرہ لگا کر بالکل ختم کردینا طبی لحاظ سے غیرمفید بلکہ کریلے بدمزہ ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ کریلے کے چندطِبِّی فوائدملاحظہ کیجئے:
·       کریلوں میں کیلشیم، فاسفورس، پروٹین، وٹامن بی سی (Vitamin B,C)کے ساتھ فولاد کی وافر مِقدار پائی جاتی ہے
·       کریلاسب سے زیادہ ذیابیطس (شوگر )کے مرض میں مفید ہے، شوگر کے مریض اسے دھوکربغیر چھیلے، یا قیمے کے ساتھ، یا تَوے پر سینک کریا خشک کرکے اِن کا سفوف (پاؤڈر) روزانہ دو گرام کھائیں
·       کریلا موٹاپا کم کرتا ہے
·       کریلے کی کڑواہٹ کے سبب اِس میں ایسے خواص ہیں جو خون کو صاف کرتے ہیں
·       پھوڑے، پھنسی، خارش یا جِلدی اَمراض میں کریلا پکا کر یا کچا کھانا بہت مفید ہے
·       کریلا مِعدے کو مضبوط کرتا، کھانا ہضم کرتااور بھوک لگاتاہے
·       اَعصابی توانائی کیلئے کریلا ایک عمدہ ٹانک (نسخہ) ہے
·       پیٹ کے کیڑے مارنے میں اس کا کوئی ثانی نہیں
·       کریلے کا استعمال گردے ومثانے کی پتھری خارج کرنے، یرقان،جریان، لقوہ، فالج، قبض، جوڑوں کے درد،بلغمی اَمراض، ہیضہ اور بواسیر میں بھی مفید ہے۔
(ماخوذازپھلوں، پھولوں اور سبزیوں سے علاج، ص351(



Blessings of Ramadan


Blessings of Ramadan

The sacred month of Ramadan is arriving soon bringing a huge treasure of blessings and forgiveness. The excellence & virtue of Ramadan can be judged by this fact that as soon as this blessed month of Ramadan begins, with its blessings, the Beloved Rasool صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم would convey the glad tidings of Ramadan and congratulate the Blessed Sahabah رَضِىَ الـلّٰـهُ تَعَالٰی عَـنْهُم upon the arrival of this sacred month of Ramadan. Sayyiduna Abu Hurayrah رَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَـنْهُ said, the Blessed and Beloved Rasool صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم has stated herald the glad tidings to his blessed Sahabah رَضِىَ الـلّٰـهُ تَعَالٰی عَـنْهُم: The sacred month of Ramadan, which is extremely blessed, has approached you, Allah عَزَّوَجَلَّhas made fasts obligatory upon you; doors of Jannah are opened in this month and the doors of Hell are closed, even devils are chained up; one of its nights is better than a thousand nights and the one who is deprived of its blessings is absolutely deprived.

(Musnad Imam Ahmad Bin Hanbal, vol. 3, pp. 331, Hadees 9001)

Continue Reading




Thursday, 18 May 2017

Zakat Kis Par Farz Hai? |زکوٰۃ کس پرفرض ہے؟


زکوٰۃ کس پرفرض ہے؟

        زکوٰۃ دیناہر اُس عاقل، بالغ اور آزاد مسلمان پر فرض ہے جس میں یہشرائط پائی جائیں :

زکوٰۃ فرض ہے

          زکوٰۃ کی فرضیت کتاب وسنّت سے ثابت ہے ۔ اللہعَزَّوَجَلَّ  قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :
وَاَقِیمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُواالزَّکٰوۃَ
)پ ۱،البقرۃ:۴۳)
 ترجمۂ کنزالایمان:اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو۔

زکوٰۃ کب فرض ہوئی؟

   زکوٰۃ2ہجری میں روزوں سے قبل فرض ہوئی ۔

زکوٰۃ کی اقسام

  زکوٰۃ کی بنیادی طور پر 2قسمیں ہیں۔
(۱)مال کی زکوٰۃ           (۲)اَفراد کی زکوٰۃ( یعنی صدقۂ فطر)




Aaroo (Peach) Ke Fawaid




آڑو(Peach)اور اُس کے فوائد
موسم گرما کو اگر پھلوں کا موسم کہا جائے تو غلط نہ ہوگا،اِس موسم کے  پھلوں میں سے ایک آڑو بھی ہے،آڑو غذائیت سے بھر پور لذیذ،مفیداور میٹھا پھل ہے،اسےصحت کیلئے مکمل خوراک کا درجہ حاصل ہے،آڑو کو میٹھا(Sweet Dish) بنانے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے،آڑو کے چند فوائد پیشِ خدمت ہیں:
·       آڑو میں وٹامن اے،سی،اِی(A,C,E)،فولاداورکیلشیم کا خزانہ پایا جاتا ہے
·       بینائی تیز کرتا ہے
·       آڑو کے غذائی اَجزا دردناک اَلسَر کو بڑھنے سے روکتے ہیں
·       اسکے ریشے  اور اِس میں موجود بکثرت فائبر(Fiber)سَرطان (Cancer)جیسے مُہلک مَرض سے بچاتے ہیں
·       آڑو چربی اور موٹاپے کو کم کرتا ہے
·       آڑو قبض ختم کرنے، کمزورنظامِ ہضم درست کرنے اور اُکھڑی سانسوں کو ترتیب میں لانے کافائدہ دیتا ہے
·       کمزور ہاضمہ والوں کیلئے آڑو چھلکے سمیت کھانا نقصان دِہ ہے
·       آڑو جِلد کی کئی خرابیوں کو دُور کرنے میں بھی مفید ہے
·       گُردوں کی صفائی کے لئے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے
·       آڑو ذیابیطس (شوگر)کے مرض میں بھی مفید ہے
·       معدے کی تیزابیّت کو دور کرتا ہے
·       نیا خون پیدا کرتا ہے،جسم میں خون کی کمی ہو تو نہار منہ(خالی پیٹ) خوب پکا ہواایک آڑوکھائیں اور اُس کے تھوڑی دیر بعد ایک گلاس پانی پی لیں
·       آڑو کھانے سے پیٹ کے کیڑے نکل جاتے ہیں۔(انٹرنیٹ کی مختلف ویب سائٹس سے ماخوذ(
نوٹ: تمام دوائیں اپنے طبیب(ڈاکٹر)کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔